زرمبادلہ کے ذخائر پر دباوٗ بڑھ گیا

image

فائل فوٹو

زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 55کروڑ ڈالر سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔

جاری اعداد و شمار کے مطابق 14جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملکی مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید 55کروڑ20لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 23ارب90کروڑ10لاکھ ڈالر سے کم ہوتے ہوئے 23ارب 35کروڑڈالر کی سطح پر آگئی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اس دوران مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں 56کروڑ20لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے تاہم اس کے مقابلے میں دیگر کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر میں 1کروڑ10لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر گھٹ کر 17ارب59کروڑ80لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں جو اس سے پچھلے ہفتے 17ارب3کروڑ60لاکھ ڈالر تھے۔

کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر اس دوران 6ارب30کروڑ40لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 6ارب31کروڑ40لاکھ ڈالر ہوگئے۔

واضح رہے کہ درآمدات بڑھنے کی وجہ سے ملکی تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جس کا اثر زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی صورت میں آرہا ہے۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لئے 3دسمبر کو ختم ہونیو الے ہفتے کے دوران سعودی ترقیاتی بینک کی جانب سے 3ارب ڈالر بھی موصول ہوگئے تھے جس سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16ارب ڈالر سے بڑھ کر18ارب 65کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے تھے لیکن تقریباً ایک ماہ میں سعودی ترقیاتی فنڈ سے ملنے والے تین ارب ڈالر کا اثر بھی زائل ہورہا ہے اور مزکورہ فنڈز ملنے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر میں دو ارب ڈالر کی کمی واقعی ہوچکی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ملکی تجارتی خسارہ بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے جو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباوٗ کا باعث بن رہا ہے۔

گزشتہ ماہ دسمبر میں 4ارب90کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر2020کے مقابلے میں 87فیصد زائد ہے اس تجارتی خسارے میں سے2.5ارب ڈالر کا خسارہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات زر سے پورا کیا گیا لیکن بقیہ بچ جانے والے خسارا زرمبادلہ کے ذخائر سے پورا کیا جارہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تجارتی خسارہ کا زرمبادلہ کے ذخائر پر دباو برقرار رہے گا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.