اسٹار لنک کے سیٹلائیٹس، ٹیلی اسکوپ کی تصاویر کے لیے مشکلات

image

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹار لنک سیٹلائیٹ سیارچوں کو نشاندہی کرنے والی اہم ٹیلی اسکوپس کی جانب سے لی جانے والی تصاویر کے پانچویں حصے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

اسپیس ایکس 2018 سے بڑی تعداد میں انٹرنیٹ سیٹلائیٹ لانچ کر رہا ہے اور زمین سے 340 میل اوپر زمین کے نچلے مدار میں اس کے دو ہزار سے زائد سیٹلائیٹ موجود ہیں۔

اسپیس ایکس کا مقصد اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائیٹ کی جھرمٹ سے تیز رفتار، اعلیٰ معیار کی انٹرنیٹ کی فراہمی ہے۔

تاہم، ان سیٹلائیٹس پر ماہرینِ فلکیات کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ لانچ کیے گئے یہ سیٹلائیٹ ٹیلی اسکوپ کی تصاویر میں خلل ڈال کر ان کے سائنسی مشاہدات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے سان ڈیاگو کی زویکی ٹرانسیئنٹ فیسلیٹی کے 2019 سے 2021 تک کے مشاہدات کا مطالعہ کیا۔

مطالعے میں انہیں علم ہوا کہ نومبر 2019 میں آسمان کی تصاویر میں اسٹار لنک سیٹلائیٹ کے آنے کی شرح 0.5 فی صد تجہ کو ستمبر 2021 میں بڑھ کر 20 فی صد تک ہو گئی۔

سائنس دانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ایک بار اسپیس ایکس کا 10 ہزار اسٹار لنک سیٹلائیٹس خلاء میں بھیجنے کا مقصد پورا ہو گیا، ہر تصویر میں کم از کم ایک سیٹلائیٹ تو آئے گا۔

تاہم، سیٹلائیٹ کا تصویر میں آنا اتنے مسئلے کا سبب بھی نہیں ہے کیوں کہ ZTF تصویر میں سیٹلائیٹ ایک فی صد کے 10 ویں حصے کے طور پر آتا ہے۔ اس کا اثر ابر آلود آسمان سے بھی کم ہوتا ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.