سلمان بٹ سنگاپور کی قومی کرکٹ ٹیم کے کنسلٹنگ ہیڈ کوچ مقرر

image
پاکستان کے سابق کرکٹر سلمان بٹ کو سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن نے اپنی قومی ٹیم کے لیے کنسلٹنگ ہیڈ کوچ مقرر کر لیا ہے۔

کرکٹ کی ویب سائٹ کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خواتین ٹیم کے ٹرینر جمال حسین بھی فیلڈنگ کوچ اور ٹرینر کی حیثیت سے ایسوسی ایشن کا حصہ بنیں گے۔

سنگاپور 1974 سے آئی سی سی سے منسلک ہے۔ اس کی ٹیم اگلے پانچ ماہ کے دوران آئی سی سی مارکی ٹورنامنٹس میں جگہ بنانے کے لیے تین بڑے ٹورنامنٹس کھیلے گی۔

سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سعد جنجوعہ نے تصدیق کی ہے کہ معاہدے کے تحت سلمان بٹ سنگاپور میں ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دیں گے اور اسی حیثیت سے ٹیم کے ساتھ سفر بھی کریں گے۔

سلمان بٹ کے دور میں تین کوالیفائر مقابلے ہوں گے، جن میں آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ جولائی میں زمبابوے میں ہو گا، ایشیا کپ اگست میں سری لنکا میں جبکہ آئی سی سی مینز چیلنج لیگ کینیڈا میں ہو گی۔ یہ وہ ٹورنامنٹ ہے جس کو آئی سی سی ورلڈ کپ میں شمولیت کے لیے اہلیت سمجھا جاتا ہے۔

2020 میں کرکٹ چھوڑنے کے بعد سے یہ سابق کرکٹر سلمان بٹ کی سب سے پہلی کوچنگ جاب ہے۔

2010 میں سلمان بٹ پر میچ فکسنگ سکینڈل کے باعث پابندی عائد کی گئی تھی جس کو جنوری 2016 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

سنگاپور کی ٹیم اگلے پانچ ماہ میں تین بڑے ٹورنامنٹس کھیلے گی (فوٹو: سنگاپور کرکٹ ایسوش ایشن)

ڈومیسٹک کرکٹ میں کئی بار اچھی کارکردگی دکھانے والے سلمان بٹ ٹیم میں دوبارہ شامل کیے جانے کے باوجود کچھ زیادہ مستحکم رول ادا نہ کر سکے جس کے باعث انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا اور کمنٹری کی طرف چلے گئے تھے۔

سلمان بٹ 2019 میں لاہور قلندر کے لیے کھیلے تھے۔

2017 میں ویسٹ انڈیز کے دورے سے قبل خیال کیا جا رہا تھا کہ ان کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا تاہم ٹیم کے اعلان سے تھوڑی دیر قبل سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آ گیا جس کا سلمان بٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس کے باوجود ان کو ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔

2020 میں قائد اعظم ٹرافی شروع ہونے سے ایک روز قبل انہوں نے ٹورنامنٹ سے الگ ہونے کا اعلان کیا جو بالآخر ان کے کرکٹ کیریئر کے خاتمے پر منتج ہوا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.