انڈیا میں ایمرجنسی: 'جب جے پور اور گوالیار کی دو مہارانیوں کو ایک ہی جیل میں ڈال دیا گیا'

انڈیا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا ہدف جے پور اور گوالیار کی مہارانیاں تھیں۔

انڈیا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا ہدف جے پور اور گوالیار کی مہارانیاں تھیں۔ وہ نہ صرف پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی سرکردہ رہنماؤں میں شامل تھیں بلکہ وہ اپنے علاقے کے عام لوگوں میں بھی بہت مقبول تھیں۔

ان کی سیاسی ساکھ کو کم کرنے کے لیے انھیں سیاسی مخالف کے بجائے معاشی مجرم کے طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔

راج ماتا گائتری دیوی کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ایمرجنسی کے اعلان سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا اور جے پور کے شاہی خاندان کے ہر گھر، محل اور دفتر پر انکم ٹیکس کے چھاپے شروع ہو گئے تھے۔

جب ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تو اس وقت گائتری دیوی کی عمر 56 سال تھی اور وہ ممبئی میں زیر علاج تھیں۔

جب وہ 30 جولائی 1975 کی رات اپنے دہلی گھر پہنچیں تو پولیس نے انھیں فارن ایکسچینج کی خلاف ورزی اور سمگلنگ ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا۔

ان کے ساتھ ان کے بیٹے کرنل بھوانی سنگھ کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔

ان پر الزام تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی سفر سے کچھ ڈالر بچ گئے ہیں جس کا انھوں نے حکومت کوحساب نہیں دیا ہے۔

اور پھر دونوں کو دہلی کی تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔

گائتری دیوی اپنے بیٹے کرنل بھوانی سنگھ کے ساتھ
Getty Images
گائتری دیوی اپنے بیٹے کرنل بھوانی سنگھ کے ساتھ

تہاڑ کی بدبودار کوٹھری جس میں پنکھا نہیں تھا

وہاں لے جانے سے پہلے انھیں مقامی پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔

گائتری دیوی اپنی سوانح عمری 'اے پرنسس ریممبرس' میں لکھتی ہیں: 'پولیس سٹیشن میں موجود ہر شخص نے بھوانی سنگھ کو پہچان لیا۔ وہ صدر کے محافظ رہ چکے تھے اور 1971 کی جنگ میں بہادری کے لیے مہا ویر چکر حاصل کر چکے تھے۔

اس وقت دہلی کی تمام جیلیں اس طرح بھری ہوئی تھیں جس طرح سیاحتی موسم میں ہوٹل بھرے ہوتے ہیں۔ تہاڑ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے پولیس افسر سے کہا کہ وہ ہمارے قیام کا انتظام کریں۔

'تین گھنٹے کے بعد جب ہم تہاڑ پہنچے تو اس نے ہمارے لیے چائے منگائی اور ہمارے گھر فون کر کے ہمارے بستر منگوا لیے۔'

مصنف جان زوبرزیکی گائتری دیوی کی سوانح عمری 'دی ہاؤس آف جے پور' میں لکھتے ہیں: 'بھوانی سنگھ کو جیل کے باتھ روم میں رکھا گیا تھا جبکہ گائتری دیوی کو ایک بدبودار کمرہ دیا گیا جس میں نلکا تھا لیکن اس میں پانی نہیں آتا تھا۔ ان کے ساتھ اس کمرے میں کمیونسٹ کارکن سری لتا سوامیناتھن کو بھی رکھا گیا تھا۔'

کمرے میں صرف ایک ہی پلنگ تھا جو سری لتا نے مہارانی کو دے دیا تھا اور وہ خود زمین پر دری بچھا کر سو گئی تھیں۔ ملکہ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے انھیں ہر روز سنسر شدہ اخبار اور صبح کی چائے دی جاتی تھی۔ شام کو انھیں اپنے بیٹے بھوانی سنگھ کے ساتھ چہل قدمی کی اجازت تھی۔

ایک قیدی لیلیٰ بیگم کو ان کی خدمت میں رکھا گیا تھا جو ان کے کمرے کی صفائی کرتی تھیں۔

15 نومبر 1977 کو ٹائمز آف انڈیا میں 'راجماتا نریٹس ٹیلز آف وینڈیٹا' کے عنوان سے شائع مضمون میں گائتری دیوی نے کہا: 'پہلی رات میں سو نہیں سکی۔ میرے سیل کے باہر ایک نالہ تھا جس میں قیدی رفع حاجت کرتے تھے۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا، پنکھا نہیں تھا اور مچھروں کو ہمارے خون سے کچھ زیادہ ہی پیار ہو گیا تھا۔

'جیل کا پورا ماحول مچھلی بازار جیسا تھا جہاں چور اور سیکس ورکرز ایک دوسرے پر چیختے رہتے تھے۔ ہمیں سی کلاس میں رکھا گیا تھا۔'

گائتری دیوی
Getty Images
گائتری دیوی

پڑھنے اور کڑھائی سے بینائی متاثر ہوئی

تہاڑ میں قیام کے دوران ملکہ گائتری دیوی کے بیٹے جگت انھیں انگلینڈ سے ووگ اور ٹیٹلر میگزین کے تازہ شمارے بھیجتے تھے۔

ہفتے میں دو بار ان سے ملنے جانے والے جیل میں انھیں ٹرانسسٹر ریڈیو پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ملکہ بی بی سی کی خبریں اس ٹرانزسٹر سے سنتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی ’سب سے طاقتور‘ وزیراعظم اپنے اقتدار کے عروج پر زوال کا شکار کیسے ہوئیں؟

وہ مسلمان لڑکی جس کے لیے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کوڑے کھانے پڑے

’کرائے کا اطالوی فوجی‘ جو پشاور کا سخت گیر حاکم بنا اور زندگی کی بازی محبت کے ہاتھوں ہارا

انڈیا کی ’سب سے طاقتور‘ وزیراعظم اپنے اقتدار کے عروج پر زوال کا شکار کیسے ہوئیں؟

کومی کپور صحافی وریندر کپور کو اپنی کتاب 'دی ایمرجنسی اے پرسنل ہسٹری' میں بتاتی ہیں: 'گائتری دیوی جیل میں دوسری خواتین سے فاصلہ رکھتی تھیں۔ وہ کبھی ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتیں، کبھی ان سے بات چیت بھی کرتیں۔ لیکن وہ کبھی ان کے ساتھ نہیں گھلتی ملتیں۔'

وجے راجے سندھیا
Getty Images
وجے راجے سندھیا

وجے راجے سندھیا کو بھی تہاڑ لایا گیا

ایک ماہ بعد تہاڑ جیل کے اہلکاروں نے گایتری دیوی کو بتایا کہ گوالیار کی راج ماتا وجے راجے سندھیا کو بھی وہاں لایا جا رہا ہے اور انھیں ان کے کمرے میں رکھا جائے گا۔

راج ماتا نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے کمرے میں ایک اور بستر لگا دیا جائے تو وہاں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہو گی۔

گائتری دیوی اپنی سوانح عمری میں لکھتی ہیں: 'مجھے یوگا کرنے کے لیے اپنے کمرے میں تھوڑی سی جگہ درکار تھی اور میں رات کو پڑھنے اور موسیقی سننے کی بھی عادی تھی۔ ہم دونوں کی عادتیں مختلف تھیں۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت پوجا پاٹ (عبادت ریاضت) میں گزارتی تھیں۔

'بہرحال جیل سپرنٹنڈنٹ نے میری درخواست قبول کر لی اور راج ماتا کے لیے ایک اور کمرے کا انتظام کر دیا گیا، لیکن چونکہ ستمبر میں موسم گرما کا موسم تھا، راج ماتا نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے سے ملحقہ برآمدے میں سو سکتی ہیں؟ میں نے پردہ ڈال کر اپنے کمرے کے برآمدے میں ان کے لیے بستر لگوا دیا۔'

تین ستمبر سنہ 1975 کو گوالیار کی راج ماتا وجے راجے سندھیا کو تہاڑ جیل لایا گیا۔

ان پر بھی معاشی جرائم کی دفعہ لگائی گئی تھی۔ ان کے تمام بینک اکاؤنٹس سیل کر دیے گئے تھے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ انھیں اپنی جائیداد بیچ کر یا دوستوں سے قرض لے کر اپنا خرچ چلانا پڑا۔ دوستوں سے قرض لینا بھی اتنا آسان نہیں تھا، کیونکہ جو بھی ایمرجنسی متاثرین کی مدد کرتا، انتظامیہ کا اس پر عتاب نازل ہوتا۔

راج ماتا اور مہارانی کی ملاقات

سندھیا اپنی سوانح عمری 'پرنسس' میں لکھتی ہیں: 'میں تہاڑ میں قیدی نمبر 2265 تھی۔ جب میں تہاڑ پہنچی تو وہاں میرا استقبال جے پور کی مہارانی گائتری دیوی نے کیا۔ ہم دونوں نے سر جھکا کر اور ہاتھ جوڑ کر ایک دوسرے کا استقبال کیا۔'

انھوں نے فکرمند ہو کر مجھ سے پوچھا: 'تم یہاں کیسے پہنچی؟ یہ بہت بری جگہ ہے، میرے کمرے سے ملحقہ باتھ روم میں کوئی نلکہ نہیں تھا، بیت الخلا کے نام پر صرف ایک گڑھا تھا، دن میں دو بار جیل کے خاکروب آتے تھے۔ پانی کی ایک بالٹی اور گڑھے میں پانی ڈال کر اسے صاف کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

جیل میں مکھیاں اور مچھر

وجے راجے سندھیا مزید لکھتی ہیں: 'گائتری دیوی اور میں بھلے ہی سابق مہارانیاں رہ چکی ہوں، لیکن تہاڑ جیل کی اپنی ہی ملکہ قیدی تھی جن کے خلاف 27 مقدمات زیر التوا تھے، جن میں سے چار قتل کے تھے۔ وہ اپنے بلاؤز میں بلیڈ رکھتی تھی۔ اور جو بھی شخص اسے دھمکیاں دیتی کہ اس کے راستے میں جو آئے گا وہ بلیڈ سے اس کا چہرہ خراب کر دے گی۔ اس کے پاس غلیظ گالیوں کا اچھا ذخیرہ تھا جسے وہ بلا جھجک استعمال کرتی تھی۔'

وجے راجے سندھیا
Getty Images
وجے راجے سندھیا

گائتری دیوی کو آئے ہوئے دو ماہ گزر چکے تھے، اس لیے لوگ ہر ہفتے ان سے ملنے آ سکتے تھے۔ ان کے ذریعے گایتری دیوی جیل کے اندر بیڈمنٹن ریکیٹ، ایک فٹ بال اور دو کرکٹ کے بلے اور کچھ گیندیں منگوانے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس کے بعد انھوں نے جیل میں رہنے والے بچوں کو کھیلنا سکھانا شروع کر دیا۔ لیکن جیل میں حالات بہت خراب تھے۔

وجے راجے نے لکھا: 'کمرے میں ہر وقت بدبو آتی رہتی تھی۔ کھانا کھاتے وقت ہم اپنے ایک ہاتھ سے بھنبھناتی مکھیوں کو بھگاتے رہتے تھے۔ رات کو جب مکھیاں سو جاتیں تو ان کی جگہ مچھر اور دیگر کیڑے لے لیتے۔‘

'پہلے مہینے مجھے کسی ایک فرد سے بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ میری بیٹیوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مجھے کس جیل میں رکھا گیا ہے۔ رات کو میرے کمرے میں لائٹ جل رہی تھی جس کے بلب پر کوئی شیڈ نہیں تھا۔'

گائتری دیوی کی طبیعت بگڑ گئی

اس دوران گائتری دیوی کا وزن دس کلو کم ہو گیا اور ان کا بلڈ پریشر کم ہونے لگا۔

کومی کپور اپنی کتاب 'دی ایمرجینسی اے پرسنل ہسٹری' میں لکھتی ہیں: 'گائتری دیوی کے منہ میں چھالے پڑ گئے تھے۔ جیل انتظامیہ نے ان کے ذاتی ڈینٹسٹ کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ کئی ہفتوں کے بعد دہلی کے مشہور ڈینٹسٹ سے ملنے اور کرزن روڈ پر بیری کے کلینک میں آپریشن کروانے کی اجازت دی گئی۔'

بعد میں جیل کے ڈاکٹروں کے مشورے پر انھیں دہلی کے جی بی پنت ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ وہاں پہلی بار پتہ چلا کہ گائتری دیوی کے گال بلاڈر میں بھی پتھری ہے۔ لیکن انھوں نے گھر والوں کے بغیر ہسپتال میں آپریشن کروانے سے انکار کر دیا۔

گائتری دیوی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا: 'پہلی رات جو پنت ہسپتال میں گزاری وہ بہت خوفناک تھی۔ میرے کمرے میں بڑے بڑے چوہے گھوم رہے تھے۔ میرے کمرے کے باہر تعینات سنتری انہیں بھگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے جوتوں کی آواز دوسرے کمرے میں مریضوں کو سونے نہیں دے رہی تھی۔ اگلے دن ڈاکٹر پدماوتی نے مجھے باتھ روم سے منسلک ایک صاف کمرے میں شفٹ کر دیا۔‘

'اگست 1975 میں، گائتری دیوی اور ان کے بیٹے بھوانی سنگھ نے حکومت سے صحت کی بنیاد پر جیل سے رہائی کی درخواست کی۔ اس وقت کے وزیر مملکت برائے خزانہ پرنب مکھرجی نے وہ خط اندرا گاندھی کو ان کی رہائی کی سفارش کے ساتھ بھیجا تھا، لیکن وزیر اعظم نے گائتری دیوی اور بھوانی سنگھ کی درخواست قبول نہیں کی۔'

دوسری طرف لندن میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ملکہ برطانیہ پر زور دینا شروع کر دیا کہ وہ گایتری دیوی کی رہائی کے لیے اندرا گاندھی کو خط لکھیں۔

جان زوبرزیکی گائتری دیوی کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: 'دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی رائے تھی کہ برطانوی شاہی خاندان کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ان کے خیال میں انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ اندرا گاندھی اسے قبول کریں گی۔'

گائتری دیوی نے اندرا گاندھی کو خط لکھا

بالآخر گائتری دیوی کے صبر کا دامن چھوٹ گیا اور انھوں نے اپنی رہائی کے لیے براہ راست اندرا گاندھی کو خط لکھا۔

انھوں نے لکھا: 'بین الاقوامی خواتین کے سال کے اختتام کے موقع پر میں اپنے ملک کی بہتری کے لیے آپ اور آپ کے پروگرامز کی حمایت کرنے کا یقین دلاتی ہوں۔'

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ سیاست سے سبکدوش ہو رہی ہیں اور چونکہ سوتنتر پارٹی ویسے بھی ختم ہو چکی ہے اور ان کا کسی دوسری پارٹی کا رکن بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اس لیے انھیں رہا کر دیا جائے۔ 'اگر اس کے لیے آپ کی کوئی اور شرط ہے تو میں اسے بھی ماننے کو تیار ہوں۔'

جان زوبرزیکی لکھتے ہیں: 'حکومت کی پہلی شرط یہ تھی کہ گائتری دیوی اور ان کے بیٹے اپنی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواستیں واپس لیں، انھوں نے اس شرط کو ماننے میں دیر نہیں کی۔ ان کی رہائی کے حکم نامے پر 11 جنوری 1976 کو دستخط کیے گئے۔ ان کی بہن مانیکا انھیں ہسپتال سے تہاڑ جیل لے گئے جہاں سے انھوں نے اپنا سامان اٹھایا جہاں انھوں نے کل 156 راتیں گزاریں۔'

'وہاں رہنے والے قیدی اور گوالیار کی راج ماتا نے انھیں الوداع کیا۔ وہ دہلی میں اورنگزیب روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر واپس آئیں۔ دو دن بعد، وہ عوامی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی کے باوجود کار سے جے پور چلی گئیں۔ تقریباً 600 لوگ ان کے استقبال کو کھڑے تھے۔ اس کے بعد وہ بمبئی چلی گئیں جہاں ان کے گال بلاڈر کی پتھری کا آپریشن ہوا۔'

تہاڑ میں بھجن اور 'کیبرے'

دوسری جانب وجے راجے سندھیا کی بیٹی اوشا کافی تگ و دو کے بعد اندرا گاندھی سے ملنے میں کامیاب ہوئیں۔

جب انھوں نے اپنی والدہ کی رہائی کی درخواست کی تو اندرا گاندھی نے کہا کہ انھیں سیاسی وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ معاشی جرائم کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

جیل کے حالات بہت خراب تھے۔ لیکن جیل میں ان کی تفریح کا بھی انتظام تھا۔

وجے راجے سندھیا لکھتی ہیں: 'ایک دن خواتین قیدیوں کا ایک گروپ میری تفریح کے لیے گانے بجانے کا پروگرام لے کر آیا۔ اس میں وہ حالیہ فلموں کے گانے کورس میں گاتی تھیں اور اسے 'کیبرے' کہتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اس کے بجائےمیں بھجن سننا پسند کروں گی۔ پھر انھوں نے میرے کہنے پر بھجن گانا شروع کر دیا لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ کوئی کیبرے کے بجائے بھجن کیونکر پسند کر سکتا ہے۔ بعد میں وہ مجھ سے کہنے لگیں، ٹھیک ہے'پہلے بھجن، لیکن پھر اس کے بعد 'کیبرے'۔'

جیل سے رہائی

کچھ دنوں بعد وجے راجے سندھیا بیمار ہوگئیں اور انھیں علاج کے لیے دہلی کے ایمس ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

سندھیا لکھتی ہیں: 'مجھے ایک پرائیویٹ روم میں رکھا گیا تھا اور باہر بیٹھنے کے لیے ایک سنتری تعینات تھا۔ کسی کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک دن میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک ملاقاتی زبردستی میرے کمرے میں گھس آیا۔

'وہکشمیر کے وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ تھے جو خود ایمس میں زیر علاج تھے۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا۔ مجھے ایک 12 سال پرانی بات یاد ‏آئی جب وہ قیدی تھے اور میں ان سے ملنے گئی تھی۔ ایک صبح مجھے بتایا گیا کہ میری خرابی صحت کی وجہ سے مجھے پے رول پر رہا کیا جا رہا ہے۔'

جب سندھیا کے جیل سے باہر آنے کا وقت آیا تو خواتین قیدیوں نے جیل کے اندرونی گیٹ کے دونوں طرف کھڑے ہو کر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ جب وجے راجے سندھیا جیل سے باہر آئیں تو ان کی تین بیٹیاں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ مسکرا رہی تھی لیکن ساتھ ہی ان کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.