پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ایک اور اضافہ، یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر تھمے گا؟

پاکستان حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریبا ڈیڑھ ماہ کے دوران چوتھی بار اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل میں یہ خدشہ سرفہرست تھا کہ قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت
EPA

’اب آگے کیا ہے؟ 300 روپے فی لیٹر؟۔۔۔ جو کرنا ہے ایک ہی بار کیوں نہیں کر لیتے؟۔۔۔ پاکستان میں فی لیٹر قیمت ایک 142 روپے ہو جائے گی لیکن آدھے لیٹر کی۔‘

یہ وہ چند سوالات اور تبصرے ہیں جو گذشتہ روز پاکستان حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریبا ڈیڑھ ماہ کے دوران چوتھی بار اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل کی عکاسی کرتے نظر آئے جس میں یہ خدشہ سرفہرست تھا کہ قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کے ساتھ ساتھ حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ، جس کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 248 روپے 74 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہو گئی ہے، آئی ایم ایف شرط کے تحت پیٹرولیم ڈویلیپمنٹ لیوی کا نفاذ ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرول پر 10، ہائی سپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے جو حکومت کے مطابق ایک ’ناگزیر فیصلہ‘ تھا جس کی وجہ تحریک انصاف حکومت کی آئی ایم ایف سے معاہدے سے روگردانی تھی۔

رات دیر گئے اس فیصلے کے بعد عوامی ردعمل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کی شکل میں دیکھنے کو ملا جس میں کسی نے سنجیدہ سوالات اٹھائے تو کسی نے میمز کی صورت میں حالات کی منظر کشی کی۔

’300 روپے فی لیٹر؟‘

پیٹرول
Getty Images

سوشل میڈیا پر جاری بحث کا ایک ایم پہلو قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے مستقبل کے حوالے سے تھا۔ ایک صحافی نے صرف یہ سوال کیا کہ ’آگے کیا ہو گا؟ تین سو روپے فی لیٹر؟‘

اس سوال کے جواب میں عزیر یونس نے لکھا کہ ’معاملہ اسی جانب جا رہا تھا لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ہر چند ہفتے بعد منفی خبروں کا رجحان پیدا کرنے کی حکمت عملی کا مقصد کیا ہے؟‘

’جو کرنا ہے، ایک ہی بار کر لیں۔‘

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گذشتہ رات اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’آئی ایم ایف سے میمورنڈم فار اکنامک اینڈ فائنانشل پالیسی کے تحت چند اقدامات اٹھانے ہوتے ہیں جن میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے تحت قیمت میں اضافہ شامل ہے۔‘

مفتاح اسماعیل کے مطابق تحریک انصاف حکومت نے ’آئی ایم ایف سے معاہدے کو توڑ کر 230 ارب روپے کا نقصان کیا گیا، اس کو بحال کرنا تھا لیکن ہم نے آئی ایم ایف سے کہا کہ قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں اور ہم فی الحال اتنا اضافہ نہیں کر سکتے لیکن کچھ نہ کچھ تو لگانا تھا۔‘

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کیا کرنے والی ہے اور کیا اس لیوی کے تحت ہر ماہ قیمت میں اضافہ ہو گا؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے جب بی بی سی کے عماد خالق نے اوگرا کے سینیئر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور ترجمان عمران غزنوی سے رابطہ کیا گیا اور ان سے سوال کیا گیا کہ پیٹرولیم لیوی لگانے کے فیصلے کے بعد اگلے چار سے چھ ماہ میں قیمت کتنی اوپر جا سکتی ہے تو انھوں نے کہا کہ ’قیمتیں تو عالمی منڈی کی قیمت، سیاسی صورتحال اور ڈالر ایکسچیج ریٹ سے جڑی ہیں۔‘

’اس لیے کوئی بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ کل کیا قیمت ہو گی، کم ہو گی یا زیادہ ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ڈالر کا ریٹ کم ہوتا ہے، عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہوتی ہے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا اور اگر زیادہ ہوتی ہے تو پھر مشکل صورتحال کا سامنا ہو گا۔ ہم صرف دعا کر سکتے ہیں۔ ‘

عالمی مارکیٹ
Getty Images

انھوں نے کہا کہ ’قیمت پر حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کا ہی ہوتا ہے۔‘

دوسری جانب وزارت خزانہ کے سابق ترجمان اور معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر خاقان نجیب کہتے ہیں کہ ’روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی ہوئی اور برینٹ کی قیمت 108 ڈالر سے 120 ڈالر فی بیرل تک گئی اور تیسری وجہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت پیٹرولیم لیوی کا نفاذ ہے۔‘

مستقبل کی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ ’ایک امید کی کرن یہ ضرور ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں پیشرفت کی وجہ سے روپے کی قدر میں بہتری ہوئی اور برینٹ کی قیمت 108 ڈالر تک آ چکی ہے جو عالمی طور پر ڈیمانڈ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق پیٹرولیم لیوی 10 روپے سے بڑھانی پڑے گی اور یہ فی لیٹر 50 روپے تک جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ان دونوں عوامل کو دیکھتے ہوئے قیمتوں میں کمی کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے لیکن شاید اضافہ بھی اب بہت زیادہ نہیں ہو گا اور قیمتیں ایک مستحکم سطح پر آ جائیں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں 24 لاکھ کی ’سستی‘ الیکٹرک کار کیا پیٹرول سے مکمل نجات دلا پائے گی؟

تیل کی قیمت میں اضافہ: طویل مدت میں ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات؟

وہ طریقے جن سے گاڑی میں پیٹرول کی کھپت کم کی جا سکتی ہے

’قربانی کا بکرا عوام ہی بنے گی‘

محمد سلمان نامی ٹوئٹر صارف نے حکومتی حمایت میں لکھا کہ ’لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ لیوی مفتاح اسماعیل یا کسی فرد کی جیب میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں جا رہی ہے۔‘

ان کا مؤقف تھا کہ ’بجٹ کے ٹارگٹ حاصل کرنے اور خوشحالی لانے کے لیے لیوی لگانا ضروری تھا۔‘

لیکن صحافی شہباز رانا کا موقف کچھ الگ تھا۔ انھوں نے لکھا کہ ’اب جبکہ حکومت اپنے بجٹ میں سٹاک ایکسچینج کو آٹھ ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دے چکی ہے اور قومی اسمبلی سپیکر اور سینیٹ چیئرمین کو اپنی مرضی سے سہولیات میں اضافہ کرنے کی اجازت دے چکی ہے تو عام آدمی سے مزید کسی قسم کی قربانی نہیں مانگی جا سکتی۔‘

اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے یوسف نذر نے لکھا کہ ’بہت سے سرکاری حکام کو ملنے والی پینشن یا سہولیات پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ عوام ہی قربانی کا بکرا بنتے ہیں۔‘

انعام خٹک نامی صارف لکھا کہ ’لوگ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے پر ہمارے یہاں بھی سڑک پر نکلتے ہیں مگر ٹینکی فل کروانے۔۔۔احتجاج کرنے نہیں۔۔۔‘

اس سنجیدہ بحث سے ہٹ کر سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جنھوں نے اس پورے معاملے کا مذاح سے جواب دیا۔

اقرا چوہدری نے لکھا کہ ’یکم جولائی سے پیٹرول کی قیمت 142 روپے ہو جائے گی لیکن صرف آدھے لیٹر کی۔‘

شاہین اظہر نامی صارف نے ایک تباہ حال گاڑی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’جس طرح قیمتیں بڑھ رہی ہیں کچھ عرصے میں گاڑیوں کی حالت کچھ ایسی ہو جائے گی۔‘

https://twitter.com/ShaheenAzhar7/status/1542722052460892162


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.