سیرالیون کے فٹبالر نے میچ میں شرکت کے لیے اپنی شادی کی تقریب میں بھائی کو بھیج دیا

image
سیرالیون کے فارورڈ فٹبالر محمد بویا تورے کو اپنی نئی فٹبال کلب کو  فوری  رپورٹ کرنے کے لیے اپنی ہی شادی کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکے بلکہ اپنی نمائندگی کے لیے بھائی کو بھیج دیا۔

عرب نیوز کے مطابق  محمد بویا اپنی زندگی کے خاص دن کے موقع پر وہاں موجود نہیں تھے کیونکہ اس کی بجائے وہ فٹبال کلب کے ساتھ معاہدے کے پابند تھے۔

 پہلے ہماری ٹیم کو لیگ جیتنی ہے پھر بیوی کو یہاں بلانا ہے۔ فوٹو ٹوئٹر

سیرالیون انٹرنیشنل پلیئر نے سویڈش فٹبال ٹیم مالمو کے ساتھ 22 جولائی کو معاہدے پر دستخط کیے، جس کے باعث انہیں اپنی شادی کے دن وہاں موجودگی سے محروم ہونا پڑا۔

سویڈش میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 27 سالہ نوجوان نے اپنی ہونے والی بیوی سواد بیڈون کے ساتھ ان کے خصوصی دن میں شامل ہونے کے بجائے اپنے بھائی کو تقریب میں اپنی نمائندگی کرنے کو کہا کیونکہ ان کا نیا کلب چاہتا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو وہ یہاں موجود ہوں۔  

عرب نیوز نے ٹوئٹر پر ان سے رابطہ کرنے پر واضح کیا ہے کہ ان خبروں کی سرخیوں کی وجہ سے پوری شادی کے بارے میں ’غلط فہمی‘پیدا ہو گئی ہے۔

ٹوئٹر پیغام کے مطابق فٹ بالر نے بتایا کہ وہ سیرالیون میں ہی تھے جب یہ معاہدہ ہوا تھا۔ شادی ضروری تھی اور سویڈن بھی جانا تھا اس لیے ایک دن قبل نکاح کی رسم کر لی اور تصاویر بھی بنا لیں کیونکہ میں شادی کی تقریب میں شامل نہیں ہو سکتا تھا۔

معاہدے پر دستخط کے باعث شادی کے دن موجودگی سے محروم ہونا پڑا۔ فوٹو ٹوئٹر

فٹبالر تورے نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھائی نے شادی کی تقریب میں میری نمائندگی کی ہے جس کا اہتمام خاندان اور دوستوں کے لیے کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری روایتی اقدار ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اسلامی طریقے سے نکاح کی رسم پہلے منعقد کر لی گئی تھی جس کی تصاویر بنا کر شادی والے دن جاری کی گئیں۔

فٹبالر نے اپنی اور اپنی نئی بیوی کی تین تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصاویر شادی کی تقریب سے پہلے لی گئی تھیں۔

بویا تورے نے کہا ہے کہ اب پہلے ہماری ٹیم کو فٹبال لیگ جیتنی ہے اور پھر میں اپنی بیوی کو سویڈن بلوانے کی کوشش کروں گا۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.