bbc-new

انڈیا کی آزادی سے لاک ڈاؤن تک: ملیے ان لوگوں سے جن کے نام تاریخی واقعات سے جڑے ہیں

بی بی سی نے ایسے چھ افراد سے ملاقات کی ہے جن کے نام تاریخی مواقع کی نسبت سے رکھے گئے ہیں۔ اس سے ان کے یوم پیدائش کا اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
آزاد کپور، ایمرجنسی یادیو اور لاک ڈاؤن ککھاندی
BBC
آزاد کپور، ایمرجنسی یادیو اور لاک ڈاؤن ککھاندی (بائیں سے دائیں)

آپ کتنے لوگوں سے مل چکے ہیں کہ جن کے نام بہت ہی منفرد نوعیت کے ہوتے ہیں؟

انڈیا میں یہ رواج ہے کہ والدین اپنے بچوں کے نام دیوتاؤں، کھلاڑیوں، فلم ستاروں یا مشہور کارٹون کے نام سے متاثر ہو کر رکھتے ہیں۔ تاہم کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو بالکل مختلف چیزوں اور واقعات سے متاثر ہو کر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں۔

پاکستان کی طرح انڈیا بھی 75ویں یوم آزادی منا رہا ہے۔ بی بی سی نے ایسے چھ افراد سے ملاقات کی ہے جن کے نام تاریخی مواقع کی نسبت سے رکھے گئے جس سے ان کے یوم پیدائش کا اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

75 برس کی آزاد کپور: دوست مذاق میں کہتے ہیں کہ پورا ملک میرا یوم پیدائش منا رہا ہے

Azad Kapoor
Jaltson Akkanath Chummar/BBC
آزاد کپور انڈیا کے یوم آزادی والے دن 15 اگست 1947 کو پیدا ہوئیں

آزاد کپور 15 اگست 1947 کو پیدا ہوئی تھیں۔ یہ وہ دن ہے جب انڈیا نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تھی یعنی انڈیا پاکستان سے ایک دن بعد یوم آزادی مناتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب میں پیدا ہوئی تھی تو میرا خاندان یہ کہتے ہوئے جشن منا رہا تھا کہ ’مدر انڈیا گھر آئی ہیں اور ہمارے لیے آزادی لے کر آئی ہیں۔‘

آزاد کپور اپنے نام سے خوش نہیں تھیں کیونکہ یہ لڑکوں کے نام جیسا ہے۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہ اس کی عادی ہو گئیں۔

ان کے مطابق ’اب میرا یوم پیدائش کوئی نہیں بھول سکتا۔ جو بھی مجھے جانتا ہے وہ مجھے 15 اگست کو یاد رکھتا ہے۔ میرے دوست یہ کہہ کر مذاق اُڑاتے ہیں کہ پورا ملک آپ کا یوم پیدائش منا رہا ہے۔‘

47 برس کے ایمرجنسی یادیو

Emergency Yadav
Jaltson Akkanath Chummar/BBC
ایمرجنسی یادیو کے والد کو سنہ 1975 کی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جیل کی سزا ہوئی تھی

ایمرجنسی یادیو انڈیا میں ایمرجنسی کے اعلان کے ایک دن بعد 26 جون 1975 کو پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق 'میرے والد نے مجھے بتایا کہ انھوں نے مجھے یہ نام اس لیے دیا ہے تاکہ لوگ ہندوستان کی تاریخ کے اس اُداس، تاریک دور کو بھول نہ جائیں۔‘

ملک سے ایک ریڈیو اعلان کے ذریعے، اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے قومی سلامتی کو لاحق خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ 'اندرونی خلفشار ' سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر رہی ہیں۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آئینی حقوق معطل کر دیے گئے، پریس کی آزادی سلب کر دی گئی اور اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو جیل بھیج دیا گیا۔

ایمرجنسی یادیو کے والد رام تیج یادیو، جو حزب مخالف کے ایک سیاست دان تھے، کو ان کے بیٹے کی پیدائش سے چند گھنٹے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے 22 ماہ جیل میں گزارے اور سنہ 1977 میں ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد ہی اپنے بیٹے سے ملاقات کی۔

ان کے مطابق 'اگر کسی بھی ملک میں ایمرجنسی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ میں واقعی اُمید کرتا ہوں کہ ہمیں اس طرح کا دوسرا واقعہ دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا پڑے گا۔‘

Short presentational grey line
BBC

23 برس کے کارگل پرابھو

Kargil Prabhu
Jaltson Akkanath Chummar/BBC
کارگل کبھی کارگل نہیں گئے

کارگل پرابھو 1999 میں کشمیر کے متنازع علاقے کارگل میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کے دوران پیدا ہوئے۔ وہ طویل عرصے تک اپنے نام کی اہمیت نہیں جانتے تھے۔

ان کے مطابق 'اگرچہ میرا نام اس تنازع کے بعد رکھا گیا تھا، مجھے اس کے بارے میں اس وقت تک زیادہ علم نہیں تھا جب تک کہ میں بڑا نہیں ہوا اور اسے گوگل نہیں کیا۔

’میرے والد کی وفات اس وقت ہوئی جب میں چھوٹا تھا، اس لیے وہ مجھے یہ نہیں بتا سکے کہ میرے نام کا کیا مطلب ہے۔‘

کارگل جنوبی شہر چنائی میں ویڈیو ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے ہیں اور انھوں نے کبھی اس شہر کا دورہ نہیں کیا، جس پر ان نام کا رکھا گیا۔ لیکن اب وہ سب سے زیادہ اسی مقام کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

کارگل پرابھو کہتے ہیں کہ 'میں جنگ میں یقین نہیں رکھتا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ کارگل جنگ کے دوران ہندوستان کو اپنا دفاع کرنا تھا، اور یہ صحیح فیصلہ تھا۔‘

Short presentational grey line
BBC

17برس کے سونامی رائے

سونامی رائے اپنی ماں مونیتا کے ساتھ
Jaltson Akkanath Chummar/BBC
سونامی رائے اپنی ماں مونیتا کے ساتھ

سونامی کی ماں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں جب وہ اپنے بیٹے کی پیدائش کے دن کو یاد کرتی ہیں۔

مونیتا رائے اس وقت حاملہ تھیں جب انھوں نے انڈمان جزیروں میں سے ایک کی چھوٹی پہاڑی کی چوٹی پر پناہ لے رکھی تھی۔ یہ علاقہ سنہ 2004 میں تباہ کن سونامی کی زد میں آ گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ چلے جائیں۔ مجھے اپنے اور اپنے پیٹ میں موجود بچے کے لیے کوئی امید نہیں تھی۔

’رات 11 بجے کے قریب میں نے اپنے بیٹے کو اندھیرے میں ایک چٹان کی چوٹی پر بغیر کسی امداد یا دوا کے جنم دیا۔ میری صحت اس کے بعد کبھی پہلے کی طرح بحال نہیں ہو سکی۔‘

سکول میں سونامی کا مذاق اڑایا گیا کہ اس کا نام ایک آفت کے نام پر رکھا گیا۔ لیکن اس کی ماں کے لیے اس نام کا مطلب امید اور بقا ہے۔

مونیتا رائے کہتی ہیں کہ 'میرا بیٹا ہم سب کے لیے ایک ایسے وقت پر امید کی کرن بن کر آیا، جب ہر کوئی اپنے خاندان کے افراد کی موت پر سوگ منا رہا تھا۔ میرا بیٹا واحد اچھی چیز تھی جو اس دن پیدا ہوئی۔‘

26 دسمبر کو آنے والے سونامی میں 200,000 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے، جن میں 10,000 انڈین بھی شامل تھے، جو بحر ہند میں زیر آب آنے والے زلزلے سے پیدا ہوا تھا۔

Short presentational grey line
BBC

5 برس کی خزانچی ناتھ

Khazanchi Nath with his mother
Jaltson Akkanath Chummar/BBC
خزانچی سنہ 2016 کی ڈی مونائٹیزیشن کے بعد پیدا ہوئیں

خزانچی کی پیدائش وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹوں کو گردش سے نکالنے کے حیرت انگیز اعلان کے چند ہفتے بعد شمالی ریاست اتر پردیش میں پنجاب نیشنل بینک کی ایک شاخ میں ہوئی۔

خزانچی کی والدہ، سروشا دیوی، اس اقدام کے بعد کچھ رقم نکالنے کے لیے لائن میں کھڑے ہوتے ہوئے لیبر میں چلی گئیں۔

خیال رہے کہ نوٹ بندی یعنی بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے بعد بینکوں میں نقدی کی کمی ہو گئی تھی کیونکہ لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ ان کے پیسے ضائع ہو جائیں گے۔ اس وجہ سے وہ بینکوں کو بڑے نوٹ دے کر چھوٹے نوٹ حاصل کر رہے تھے۔

ان کے مطابق چونکہ یہ بچی ایک بینک میں پیدا ہوئی تھی اس وجہ سے سب نے کہا کہ اس کا نام خزانچی (کیشیئر) رکھا جائے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 کو صرف چار گھنٹے کا نوٹس دیتے ہوئے اعلان کیا کہ 1000 اور 500 روپے کے نوٹ اب درست نہیں رہیں گے، جس سے 85 فیصد سے زیادہ انڈین کرنسی ختم ہو جائے گی۔

حکام کا کہنا تھا کہ یہ اقدام رشوت خوری، ٹیکس چوری اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نے ملک بھر میں عام لوگوں اور چھوٹے کاروبار کو بُری طرح متاثر کیا۔

لیکن خزانچی کے خاندان کے لیے، یہ نام قسمت کا باعث بنا۔ اس سال کے آغاز میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے قبل اتر پردیش میں حزب اختلاف کے اہم رہنما نے خزانچی کو اپنی مہم میں ستاروں میں سے ایک اہم ستارہ بنایا۔

سرویسہ دیوی کہتی ہیں، ’وہ ہمارے لیے پیسے اور دولت لے کر آیا ہے، ہر کوئی ہماری مدد کر رہا ہے۔ میرے پاس اس کے نام کی وجہ سے ایک مناسب گھر اور کافی نقدی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’کیا ماں کا حق نہیں تھا کہ بیٹا اس کا سہارا بنتا؟‘

بچوں کی پرورش کا مغربی طریقہ کتنا عجیب ہے

کیا ماں باپ کا کوئی لاڈلا بچہ ہوتا ہے؟ وہ راز جسے والدین سینے میں چھپائے رکھتے ہیں

دو برس کے لاک ڈاؤن ککھندی

Lockdown with his mother
Jaltson Akkanath Chummar/BBC
لاک ڈاون اپنے گاؤں میں ایک سلیبریٹی بن چکے ہیں

لاک ڈاؤن ککھندی سنہ 2020 کے دوران انڈیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤں کے بعد لاک ڈاؤن کے اعلان کے ایک ہفتہ بعد پیدا ہوئے۔ اب وہ اتر پردیش کے ایک چھوٹے گاؤں ککھندو میں ایک مشہور شخصیت بن چکے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے والد پاون کمار کا کہنا ہے کہ 'میرے بیٹے کی پیدائش لاک ڈاؤن کے عروج پر ہوئی تھی۔ میری بیوی کی ڈیلیوری کے لیے گاڑی تلاش کرنا بہت مشکل تھا۔ بہت سے ڈاکٹر تو مریضوں کا علاج کرنے کو بھی تیار نہیں تھے۔ شکر ہے کہ میرا بیٹا بغیر کسی پیچیدگی کے پیدا ہوا۔‘

لاک ڈاؤن کے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں، ہر کوئی ان کے بارے میں جانتا ہے اور بہت سے لوگ ان سے ملنے ان کے گھر جاتے ہیں۔

والد پاون کمار کہتے ہیں کہ 'لوگ کچھ وقت کے لیے اس کا مذاق اڑائیں گے، لیکن ہر کوئی اسے بھی یاد رکھے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا نام اس بات کی یاد دلائے کہ اس وقت لوگ کس طرح کے حالات سے گزر رہے تھے۔‘

ملک گیر لاک ڈاؤن، جس کا اعلان وزیراعظم مودی نے 24 مارچ 2020 کو کیا تھا، بہت سے شہریوں کے لیے ایک دشواری کا باعث بنا کیونکہ انھیں صرف چند گھنٹوں کا نوٹس دیا گیا تھا۔

اس کے بعد کے ہفتوں میں ضروریات زندگی کی اشیا کی قلت اور ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے لوگ تنگدستی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.