bbc-new

مہنگائی اور ہفتہ وار بازار: `دیکھیے بازار خالی پڑا ہے۔۔۔گاہک ریٹ سن کر پلٹ جاتے ہیں‘

ہفتہ بازار میں ضرورت کی ہر چیز اب بھی دستیاب ہے لیکن دکاندار گاہکوں کی کمی اور گاہک مہنگائی میں اضافے کا شکوہ کر رہے ہیں۔
bazazr
BBC

`ارے بھائی یہ دو سو کا تو نہیں ہے کم کرو۔۔۔۔ باجی اچھا پلاسٹک ہے لے لیں میں تو اس لیے دے رہا ہوں کہ آج کل کام نہیں ہے۔۔۔۔ ارے بھائی یہ شیشہ مجھے تین سو نہیں دو سو ستر کا چاہیے گھر واپسی کا کرایہ بھی تو دینا ہے۔۔۔‘

وہ بازار جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور جہاں آپ کو لگتا تھا کہ آپ بھیڑ میں گم ہو جائیں گے یا کوئی دوسرا گاہک آپ کی پسند کی ہوئی چیز نہ اٹھا لے وہاں اس بار جانے پر مجھے غیر معمولی خاموشی نظر آئی۔

سبز نیٹ سے بازار کے سٹالز کے درمیان بنی چھوٹی چھوٹی راہداریاں سنسان پڑی ہیں، یوں کہیے کہ گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ پشاور موڑ پر اسلام آباد کا سب سے بڑا ہفتہ وار بازار ہے جہاں ہفتے میں تین بار بازار لگتا ہے اور جو جڑواں شہروں میں اس بات کے لیے مشہور ہے کہ یہاں آپ کو سبزی فروٹ کے علاوہ امپورٹڈ سامان بہت اچھی حالت میں مل جاتا ہے، کسی بھی دوسرے بازار سے بہت اچھا۔

دوپہر کے سوا تین بج رہے ہیں اور عبدالستار دیگچے میں بچے چاولوں کی آخری پلیٹ کا نکال رہے ہیں۔

وہ کہنے لگے پہلے بہت گاہک آتے تھے میں 23 کلو چاول بناتا تھا لیکن اب کچھ مہینوں میں 12 سے 13 کلو ہی بناتا ہوں۔ پاس کھڑے دکاندار نے مایوسی سے کہا کام تو نہیں ہے لیکن کھانا تو ہم نے کھانا ہوتا ہے ناں کام ہو نہ ہوں۔

وہیں پاس سے گزرتے شخص جس نے اپنا نام غلام رسول بتایا کو منیاری کے سٹال سے دکاندارنے بلایا اور کہا تین سو سے کم نہیں دوں گا۔ میں نے ان سے پوچھا تو اس نے جواب دیا میں نے گھر بھی جانا ہے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔

منیاری کا سامان بیچتے گل شیر نے کہا باجی ہم ہر بار بازار کا ایک دن کا کرایہ 1500 دیتے ہیں اور دن آدھا گزر گیا میں نے ابھی تک ہزار کی سیل بھی نہیں کی تو بتائیں کیا کریں کرایہ تک نکل نہیں رہا ہمارا۔

خواتین کی انڈر گارمنٹس بیچتی یاسمین نے بتایا کہ میں گذشتہ 18 برس سے یہ سٹال لگا رہی ہوں۔

bbc
BBC

`ہمارے تین بازار لگتے ہیں ہم ہر بازار کا ایک دن میں 25 ہزار سیل کرتے تھے اور اب نوبت یہ آ گئی ہے کہ 6 ہزار کمائی ہوتی ہے، جیسے دودھ سبزی اور پٹرول مہنگا ہوتا ہے ہر دن کے حساب سے جو ہم بیچ رہے ہیں اس کی قیمت بھی بڑھتی ہے۔‘

سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کو پیچنے والے یاسین نے مجھے بتایا کہ `اب مال بہت ہی زیادہ مہنگا ہو گیا ہے اور کسٹمر بھی بہت بھاؤ تاؤ کرتے ہیں۔ لیتے اچھی چیز ہیں لیکن پیسے نہیں دیتے۔ برانڈ میں جا کر لوگ بحث تو نہیں کرتے۔ ‘

یاسین جو بیرون ملک سے آئے مال کو کراچی جا کر خریدتے ہیں انھوںنے بتایا گاہک کم ہو گئے ہیں، ہاں جس نے لینا ہے وہ لے گا لیکن پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک لینا ہوتا تھا تو لوگ دو لے لیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے اب ایسا ہے جس کو جو ضرورت ہوتی ہے وہی لیتا ہے۔

قالین اور رگ کی دکان کے باہر کرسی پر بیٹھے شیر محمد نے مجھے بتایا کہ پانچ ہزار کا رگ ہمیں اب نو ہزار میں پڑ رہا ہے جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے اور گاہک کم ہو گئے ہیں۔

خریداری کرنے کے لیے خواتین اس بازار میں دکھائی تو دے رہی ہیں لیکن حالات اب پہلے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

آمنہ جو گھر کا سودا سلف لینے کے لیے وہاں موجود تھیں نے مجھے بتایا مہنگائی اتنی ہو گئی ہے کہ اب جو بھی لیتے ہیں ہم سوچ سمجھ کر لیتے ہیں۔

bazar
BBC

سفیہ اپنے بیٹے اور بہو کے ہمراہ شاید شاپر میں کچھ سبزی اٹھائے ہوئے تھیں وہ کہنے لگیں اب ایک ہانڈی پانچ سے چھ سو روپے میں پڑتی ہے اور جو گھر میں کوئی تیسرا بندہ آ جائے تو پھر سارا بجٹ ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔

انھوںنے کہا کہ دکاندار پہلے تو کبھی ریٹ اوپر نیچے کر لیتے تھے لیکن اب تو فکس ریٹ ہیں۔

سیکنڈ ہینڈ امپورٹڈ سامان کی دکان کے مالک جنھیں سب حاجی کہہ کر پکارتے ہیں نے مجھے بتایا یہ مال تو سارا سٹاک کا پڑا ہے اب مال لانے پر تو پابندی لگی ہوئی ہے اور مہنگائی سے خریدار کم ہو گئے ہیں۔

کپڑے کی دکان پر بیٹھے جہانگیرنے مجھے بتایا کہ گاہک جو چھ سو کا سوٹ تھا وہ آٹھ سو میں مل رہا ہے پہلے اگر 50 گاہک آتے تھے تو اب اس میں سے دس فیصد بھی نہیں رہے۔

فروٹ بیچنے والے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

کیلے کے سٹال کے مالک نے مجھے بتایا کہ آپ دیکھیں ناں بازار خالی پڑا ہے اس بازار میں تو بہت رش ہوتی تھی، ہم پہلے سندھ سے کیلا لاتے تھے 85000 کا ٹرک آتا تھا اب وہی ٹرک کا کرایہ ایک لاکھ 40 ہزار تک ہو گیا ہے۔

bazar
BBC

فروٹس کا سٹال لگائے اظہر نے کہا کہ پہلے ہم فروٹ لاتے تھے تو وہ شام تک بک جاتا تھا لیکن اب آدھا سودا ویسے ہی پڑا ہوتا ہے، بازار میں آپ دیکھ رہی ہیں گاہک ہی بہت کم ہے۔

ایسا نہیں کہ ریٹ سارے ہی کم ہیں جیسے بینگن جو اتوار کو 200 روپے کلو بک رہے تھے اب 120 میں مل رہے ہیں لیکن یہ اس سٹال کے مالک فرہاد خان نے بتایا کہ ہمارے گاہک بہت کم ہو چکے ہیں بمشکل ہم اپنا کرایہ نکال پا رہے ہیں۔

وہیں کھڑے ایک خریدار اشفاق احمد نے کہا کہ یہ تو دس پندرہ روپے مہنگی خرید رہے ہیں کوئی چارہ نہیں لیکن بجلی کے اس بِل کا کیا کریں جو 500 یونٹ پچھلے ماہ 12000 کی تھی اب وہ 24000 میں پڑ رہی ہے اب بتائیے ہم وہ بِل کیسے ادا کریں۔ سبزی تو جیسے تیسے خرید رہے ہیں بجلی کے بِل کا کیا کریں؟

bbc
BBC

دکاندار کہتے ہیں گاہک چیزوں کی قیمت پر کہتے ہیں اتنا مہنگا اور زیادہ تر ریٹ سن کر لوٹ جاتے ہیں۔

ایک دکاندار نے کہا کہ پہلے تو یہ عالم ہوتا تھا کہ ہم پانچ منٹ بعد دوسرے گاہک کو چیز دے رہے ہوتے اور اب دیکھیے ہم دکان چھوڑ کر دوسری دکان پر چکر لگا لیتے ہیں کیونکہ گاہک ہی نہیں ہے۔

یہ تو تھی دکاندار اور خریداروں کی بات لیکن ریڑھی پر سامان لاد کر اپنی دیہاڑی لگانے والے نو عمر لڑکے اور بہت سے عمر رسیدہ لوگ بھی بہت پریشان حال دکھائی دے رہے تھے۔

مزید پڑھیے

مہنگائی کے اس دور میں گھریلو بجٹ کیسے بنایا جائے؟

کیا پاکستان میں نئے انتخابات سے مہنگائی کم ہو جائے گی؟

بازار میں ڈھائی گھنٹے گزارنے کے دوران مجھے ایک بھی گاہک ایسا دکھائی نہیں دیا جس نے اتنا سامان خریدا ہو کہ اسے ریڑھی والے کی خدمات لینی پڑی ہوں۔

ایک عمر رسیدہ مزدور نے مجھے بازار کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ کچھ کام نہیں ہے لوگ ہی نہیں ہیں دیکھیے، گیٹ کے قریب ریڑھیاں لگائے بچوں میں سے ایک نے کہا صبح سے ابھی تک صرف سو روپے کی دیہاڑی لگی ہے پچھلا اتوار اس سے بھی بدتر تھا کام ہی نہیں ہے۔

bazar
BBC

پردے خریدتی خواتین کو دکاندار عجلت میں بار بار یہی کہتا رہا ’دیکھ لیں دیکھ لیں لیکن ریٹ کم نہیں ہوں گے۔‘

ڈیکوریشن کا سامان بیچتے ایک دکاندار نے مجھے کہا ان دونوں حکومتوں نے ہمارا کاروبار ڈاؤن ہی کیا ہے ٹیکس پر ٹیکس ہے اور ہمارے گاہک جو ہم سے چیزیں لینے آتے تھے اب نہیں آتے۔

گیٹ نمبر دس سے باہر نکلی تو سامنے میٹرو سٹیشن کا بورڈ دکھائی دیتا ہے لیکن میٹرو اور ٹیکسی کا کرایہ بھر کے ہفتہ وار بازار کا رخ کرنے کون آئے گابقول ایک خریدار خاتون گھر کے پاس سے سبزی تو مہنگی ملتی ہے سستی سبزی کے لیے یہاں آئیں تو جو بچت ہوتی ہے اس سے زیادہ تو کرائے میں لگ جاتا ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.