bbc-new

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: پاکستان کی انگلینڈ کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی بولنگ اور مڈل آرڈر پر تنقید

کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں سات ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے تیسرے میچ میں آج انگلینڈ نے پاکستان کو 63 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔
بروک
Getty Images

کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں سات ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے تیسرے میچ میں آج انگلینڈ نے پاکستان کو 63 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔

ایشیا کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے پاکستانی بولرز آج انگلینڈ کے نوجوان بلے بازوں کے سامنے بے بس دکھائی دیے جنھوں نے ان کی ناقص بولنگ کی خوب درگت بنائی۔

انگلینڈ کی جانب سے ہیری بروک کی 35 گیندوں پر 81 رنز کی ناقابلِ یقین اننگز کے باعث انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 222 رنز کا ہدف دیا تھا تاہم پاکستان مقررہ 20 اوور میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر صرف 158 رنز ہی بنا سکا۔

پاکستانی اوپنرز آج، کل کی طرح عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے اور یوں بات جب مڈل آرڈر پر آئی تو جوابات ملنے کی بجائے مزید سوالات نے جنم لیا۔

حیدر علی تین اور افتخار صرف چھ رن بنا کر پویلین لوٹ گئے اور پھر شان مسعود اور خوشدل شاہ نے 15 رنز کی اوسط کے حساب سے کھیلنے کی کوشش کی جو بے سود رہی۔

تاہم شان مسعود کی اپنی دوسری ٹی ٹوئنٹی اننگز میں نصف سنچری یقیناً پاکستان کے لیے اس میچ کی اکلوتی خوش آئند بات رہی۔

انھوں نے 40 گیندوں پر 65 رنز کی اچھی اننگز کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے۔ ادھر خوشدل شاہ 21 گیندوں پر 29 رنز ہی بنا سکے اور عادل رشید کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

پاکستان نے 20 اوورز کے اختتام پر 158 رنز بنائے اور یوں جمعرات کو بہترین کارکردگی دکھانے والی بیٹنگ آج اوپنرز کے آؤٹ ہوتے ہی لڑکھڑا گئی۔

انگلینڈ کی جانب سے آج بولنگ اٹیک میں متعدد تبدیلیاں کی گئی تھیں اور ان کا اثر ان کی اچھی بولنگ میں بھی دکھائی دیا۔

مارک وڈ کی پیس بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کا سبب جبکہ ٹاپلی کی چینج آف پیس رضوان کی پویلین میں واپسی کا باعث بنی۔

مارک وڈ نے تین اور عادل رشید نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ہیری بروک کو پلیئر آف دی میچ کا اعزاز دیا گیا۔

شان مسعود
Getty Images

اس سے قبل انگلینڈ کی جانب سے اننگز کے آغاز میں گذشتہ دو میچوں کے برعکس آج فل سالٹ کا سکور سنگل ڈجٹس میں ہی رہا اور انھیں محمد حسنین نے صرف آٹھ رن ہی بنانے دیے۔

تاہم آغاز میں اس نقصان کے باوجود انگلینڈ کی جانب سے آج ڈیبیو کرنے والے اوپنر ول جیکس نے جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور پاور پلے میں انگلینڈ کا سکور 57 رنز تک پہنچا دیا۔

ول جیکس کی 40 رنز کی اننگز میں آٹھ چوکے شامل تھے۔ پاور پلے کے بعد عثمان قادر نے آتے ہی ڈاوڈ ملان کی ایک انتہائی شارٹ گیند پر وکٹ حاصل کی اور پھر اپنے اگلے ہی اوور میں ول جیکس کو بھی چلتا کیا تو ایسے محسوس ہوا کہ شاید پاکستانی سپنرز اب میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے۔

لیکن پھر کریز پر بین ڈکٹ اور ہیری بروک کی جوڑی نے پوزیشن سنبھالی اور ایسی سنبھالی کے آخری اوور تک پاکستانی بولرز دونوں کو جدا کرنے میں ناکام رہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق دونوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 139 رنز کا اضافہ کیا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انگلینڈ کی چوتھی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت ہے۔

ادھر پاکستان کی جانب سے شاہنواز دھانی نے آج اپنے چار اوورز میں 62 رنز دیے جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی پاکستانی بولر کی دوسری سب سے مہنگی بولنگ ہے۔

سب سے مہنگی بولنگ کا پاکستان کا ریکارڈ عثمان شنواری کا ہے جنھوں نے سنہ 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں چار اوورز میں 63 رنز دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: ایشیا کپ کا فائنل ہارنے والی ٹیم ’تبدیلی‘ لا سکے گی؟

شان مسعود یہ بوجھ کس حد تک اٹھا پائیں گے؟

’مگر ہیری بروک میلہ لوٹ گئے‘

دونوں کی جوڑی میں سے ہیری بروک گذشتہ دونوں میچوں کی طرح آج بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے اور 230 سے زیادہ کے سٹرائیک سے 35 گیندوں پر 81 رنز کی یادگار اننگز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

ان کی اننگز میں پانچ چھکے اور آٹھ چوکے شامل تھے۔ دوسری جانب بین ڈکٹ نے جدید شاٹس کھیلتے ہوئے 42 گیندوں پر 70 رنز کی اننگز کھیلی۔

یوں انگلینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 221 رنز بنائے جو پاکستان کے خلاف کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ سری لنکا کا تین وکٹوں پر 211 رنز کا تھا۔

’کیا یہ مڈل آرڈر آسٹریلیا میں رنز کرے گا جو اپنے ہوم گراؤنڈ پر ناکام ہے‘

خیال رہے کہ یہ سات میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز ایک ایسے موقع پر کھیلی جا رہی ہے جب ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ شروع ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ جیسے انگلینڈ کی جانب سے آج متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں ویسے ہی آنے والے میچوں میں پاکستان کی جانب سے بھی تبدیلیوں کی امید رکھی جا سکتی ہے۔

تاہم ٹوئٹر پر اکثر صارفین تاحال پاکستان کے بلے بازوں خاص کر افتخار احمد سے خوش نہیں دکھائی دے رہے اور انھیں حیدر علی کی دو اننگز پر بھی اعتراضات ہیں۔

پاکستان کا مڈل آرڈر گذشتہ کئی ہفتوں سے زیرِ بحث اور اس میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ ایشیا کپ کے بعد پاکستان کی جانب سے شان مسعود اور حیدر علی کو مڈل آرڈر میں کھلایا گیا ہے اور دونوں کو ابھی دو ہی اننگز کھیلنے کا موقع ملا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’حیدر علی کو اگلے میچ میں بابر کے ساتھ اوپن کرنا چاہیے، اگر ایک کھلاڑی اچھا نہیں کھیل رہا تو اسے بہترین بلے باز کے ساتھ کھیلنے کا موقع دینا چاہیے۔ اگر یہ ایک اچھی اننگز کھیل لے تو اس کی فارم میں واپسی ہو جائے گی۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ شاید ہماری ڈومیسٹک کرکٹ میں خرابی ہے یا شاید یہ مائنڈ سیٹ کا مسئلہ ہے یا پرانے کوچز کا۔ صہیب مقصود اور حیدر علی کو دیکھیں شروع میں اتنا اچھا کھیلتے اب انھیں کیا ہو گیا ہے۔‘

تقلین مشتاق کی میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’آپ لوگ مڈل آرڈر پر مسلسل بات کر کے ہماری ذہنیت متاثر کر رہے ہیں، بار بار مڈل آرڈر پر بات کر کے ہمارے کھلاڑیوں کا اعتماد خراب کر رہے ہیں۔‘

ثقلین مشتاق کے اس بیان پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جائز تنقید پر اس طرح بات کرنا مناسب نہیں ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’جب سے ہوش سنبھالا ہے اور کرکٹ دیکھی ہے یہ مسئلہ تب سے ہی ہے، ٹیم کا آج تک مڈل آرڈر ٹھیک نہیں ہو سکا۔‘ اسی طرح ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’جس دن بابر اعظم اور محمد رضوان نہ چلیں ٹیم کا جیتنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارا مِڈل آرڈر اوسط سے بھی کم درجے کا ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’ہمیشہ اوپنرز سکور کر کے نہیں دے سکتے مڈل آرڈر کو ٹیم میں کس لیے رکھا ہے۔ کیا یہ مڈل آرڈر آسٹریلیا میں رنز کر کے دے گا جو اپنے ہوم گراؤنڈ پہ ناکام ہے۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.