اس سے ہمارا نہ کبھی رابطہ ہوگا
Poet: عفان ساحل By: Affan Sahil, Lahore اس سے ہمارا نہ پھر کبھی رابطہ ہو گا
گر ہوگا تو بیچ زمین و آسماں کا فاصلہ ہوگا
ان غموں سے نجات زندگی میں نہیں ملتی
موت کے بعد ہی دکھوں کا خاتمہ ہوگا
کونسا پل زندگی کا آخری پل ہے
جیتے جی نہ اس بات کا فیصلہ ہوگا
میں نفرت تو کسی سے کرتا نہیں ہوں
کون ہے وفا کے قابل اب یہ دیکھنا ہوگا
تمہاری بے وفائی سے میں نے یہ سیکھا ہے
کوئ نہ اس دنیا میں میرا، میرے سوا ہوگا
دعا مت کرنا میری لمبی عمر کی
جیتے رہیں گے تو اور تماشا ہوگا
وہ جتنی بار چاہے، میرا دل توڑدے ساحل
یہ دل اسی کی یاد میں غمزدہ ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







