ایک بستی مرے دل کے ہی جہاں سے آئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ وہی میرا نگر ہے تو مکاں سے آئی
ایک بستی مرے دل کے ہی جہاں سے آئی
میری سرحد میں غنیموں کا گزر کیسے ہوا
تھی سروں کی وہ جو دیوار کہاں سے آئی
یوں تو کہنے کو بس اک موج تھی پانی کی مگر
دیکھنا یہ ہیں کہ پل بھر میں خزاں سے آئی
بعد مدت کے ملا ہے تو مرے یار بتا
تیری آنکھوں میں اک ہی ہے بتاں سے آئی
اب کسی بات میں بھی جی نہیں لگتا میرا
دل میں آ بیٹھی ہے جو خواہش وہاں سے آئی
تیرے چہرے پہ عمرؔ آج یہ رونق کیسی
پھر طبیعت کوئی موضوع بیاں سے آئی
تذکرے جس کے کتابوں میں پڑھا کرتے تھے
دیکھ وشمہ وہ قیامت کی خزاں سے آئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






