ایک تیری ہی خاطر جھک جاتا ہوں میں

Poet: Huma Jafar
By: Huma Jafar, Nowshera

ایک تیری ہی خاطر جھک جاتا ہوں میں
چھاؤں سے لڑ کے دھوپ میں کھڑا ہو جاتا ہوں میں

یہ لازم ہے کہ ہنس دوں جو ملیں اجالوں میں
کبھی ملنا اندھیروں میں بہت روتا ہوں میں

چپ دلیل نہیں کہ مسئلے موجود نہیں
بات یہ ہے کہ بیاں مسئلے نہیں کرتا ہوں میں

میں بہت نازک بہت نادان سا ہوں
کھونے سے بھی اور تجھے پانے سے بھی ڈرتا ہوں میں

چاہتا تو بہت ہوں کہ دم توڑ دوں اب
اس کے بھی قابل نہیں کہ روز ہی مرتا ہوں میں

ہوتی تھیں کبھی کبھی خوشیاں بھی محسوس
کہ اب تو صرف ہونٹوں سے ہی ہنستا ہوں میں

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پہلے سے ہی بکھرا ہوں
اب گِر جاتا ہوں یا اگر ٹوٹ جاتا ہوں میں

وقت کا سورج تو پہلے ہی ڈھل چکا تھا
اب سہارے امید کے اندھیروں میں کھڑا رہتا ہوں میں

کچھ حالات بہت مہنگے تھے کہ ان کی قیمت کو،
آج بھی دل کے خزانے سے بھرتا ہوں میں

Rate it:
11 Apr, 2021

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: Huma Jafar
Visit Other Poetries by Huma Jafar »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>