تم ہو ساتھ تو
Poet: زویراملک By: Zavaira Malik, Rawalpindiمیرے ہمسفر میرے چارہ گر
تم ہوساتھ تو
کڑی دھوپ میں بھی جیسے
کوئی سائہ ہو میسر
تم ہوساتھ تو
جیسے خزاں سے یثمردہ پھولوں پہ
بہار کا ہو گماں
تم ہوساتھ تو
جیسے مرنے والے کو
زندگی کی نوید مل جائے
تم ہو ساتھ تو
جیسے اندھیرے میں جگنوؤں کا بسیرا ہو جائے
تم ہوساتھ تو
جیسے وحشتوں کے دشت میں
رونق کا راحت کا سماں ہو
اے میرے چارہ گر
جو تم ہوساتھ تو
پھر جیون مکمل لگے
پھر کوئی نہ بھی ہو تو
اک تیرے ہونے سے
کائنات مکمل لگے۔۔
اک تیرے ہونے سے
زندگی, زندگی لگے
اے میرے ہمسفر
جو اک تو ہو تو
پھر یہ مرنا آسان لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






