تیری محفل میں عاشقی تم سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیری محفل میں عاشقی تم سے
کیا سناؤں میں دل لگی تم سے
چشم حسرت سے بہہ رہا ہے لہو
غم کے دریا میں اب نمی تم سے
کیسی دوری ہے آج کل مجھ سے
کیسی رنجش ہے دشمنی تم سے
جب سے شامل ہوں بزم یاراں میں
تب سے زندہ ہوں دوستی تم سے
سب ستارے اداس بیٹھے ہیں
چاند نکلا ہے چاندنی تم سے
کشت امید اب بھی باقی ہے
اس دریچے میں تیرگی تم سے
غم کا موسم چھپائے بیٹھا ہے
سارا گلشن ہی اک کلی تم سے
زخم زندہ ہیں آج بھی وشمہ
اس محبت کی روشنی تم سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






