تیرے جاتے ہی لہو رونے لگا پھر آصف
Poet: عارفین آصف ملک By: Arfeen Asif Malik, Rajsnpurدل بہلنے کا بہانہ تو بناتی جاؤ
جاتے جاتے ذرا ہنس کر ہی دکھاتی جاؤ
صرف اک بات کہ جس بات سے ہر بات گٸی
ہات کی بات ہے یہ بات بتاتی جاؤ
اور سے اور جگہ دل کو نشانہ کر کے
کچھ نۓ زخم پرانوں میں ملاتی جاؤ
أدمی نیند میں رہ کر بھی سفر کرتا ہے
میرے پہلو میں رہو ، ساتھ نبھاتی جاؤ
میں نے اک عمر نبھایا ہے کسی ہجر کا درد
تم بھی کچھ روز کا احسان چڑھاتی جاؤ
کاسہ ٕ جاں میں نٕۓ ہجر کا سکّہ دھر کر
مہربانوں میں مرے نام لکھاتی جاؤ
جس طرح دھوپ اڑاتی ہے گلابوں سے نکھار
ہاتھ اپنا مرے ہاتھوں سے چھڑاتی جاؤ
دھیرے دھیرے مری أنکھوں سے چُرا لو نیندیں
دھیرے دھیرے مرے خوابوں کو سجاتی جاؤ
تمھیں جانا ہے بحر حال چلی جاو مگر
اگلے دن رات کا نقشہ تو دکھاتی جاؤ
تیرے جاتے ہی لہو رونے لگا پھر آصف
سچ تو کہتا تھا کہ پاگل کو سلاتی جاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






