جان و دل تم پہ لٹانے کا ہنر رکھتے ہیں
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanجان و دل تم پہ لٹانے کا ہنر رکھتے ہیں
جی تو سکتے ہی ہیں مرنے کا ہنر رکھتے ہیں
بات کو ہونٹوں پہ نہ لانے کا ہنر رکھتے ہیں
اشک آنکھوں میں چھپانے کا ہنر رکھتے ہیں
آپ کی آنکھ جونالاں ہے مرے آنے پر
آپ کی آنکھ سے جانے کا ہنر رکھتے ہیں
لفظ کی کھیتیاں اگتی ہیں تیرے آنے پہ
خار کو پھول بنانے کا ہنر رکھتے ہیں
وقت کے ہاتھ بناتے ہیں جو ہر چہرے پہ
عکس ہم وہ بھی مٹانے کا ہنر رکھتے ہیں
عمر بھر ہم نے جلایا ہے حسرت آنکھوں کو
ہم اندھیروں میں بھی جینے کا ہنر رکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






