جرمِ وفا سے بولئے انکار کیا کریں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاجرمِ وفا سے بولئے انکار کیا کریں
بستی میں اپنے پیار کا اطہار کیا کریں
خلوت کدے میں درد کی قیمت لگائے کون
جو تم نہیں تو رونقِ بازار کیا کریں
تم نے چھوا جو کاغزی پھولوں کو پیار سے
پھیلی تمہارے لمس کی مہکار کیا کریں
سمجھے نہیں جو اج بھی فن کی باریکیاں
محبوب کے فراق میں فنکار کیا کریں
شہر سخن میں پاکے رفیقوں کی چاہتیں
سب کچھ لٹا کے پیار میں اشعار کیا کریں
بالوں میں اپنے گجرے سجاؤ ں میں کس لئے
اور آئینے میں اپنا ہی دیدار کیا کریں
وشمہ تماہرے لب پہ تبسم رہے سدا
آنکھوں میں اس کی اب بھی ہے اک خار کیا کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






