جو ہوگیا سو ہو گیا
Poet: Syed Muhammad Abdul Hadi By: Syed Muhammad Abdul Hadi, Karachiمحبت تیرا کرنا جرم تو نہ تھا جو ہو گیا سو ہو گیا
وفا کی تو نے جفا ملی تجھ کو جو ہوگیا سو ہو گیا
تو نہ آشنہ تھا ستم سے اُسکے،اسی کے جفا سے
گزار دیا ہر اک لمحہ اسکی آس میں جو ہوگیا سو ہو گیا
تو تو گم تھا اسکے خیال میں اسی کے گمان میں
یہ گمان بھی عجب گمان تھا جو ہوگیا سو ہو گیا
نہ اسکو تھی تیری پرواہ ذرا،نہ دھیان اسکو تیرا تھا
کہا تھا اک روز اسنے تجھے جو ہوگیا سو ہو گیا
اک دریا اک ندی اک جنوں تیری اآنکھوں میں تھا
سمندر بن کر بہا گیا موجوں میں جو ہوگیا سو ہو گیا
یہ واقعہ تھا بے رخی کا اک روداد تھی ہادی اسکی
جو خواب بکھر کر ریزہ ریزہ ہوا جو ہوگیا سو ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






