حسن تو لاجواب ہوتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاعشق خانہ خراب ہوتا ہے
حسن تو لاجواب ہوتا ہے
اس کو پڑھتی ہیں وقت کی آنکھیں
جس کا چہرہ کتاب ہوتا ہے
بن کے بہتا ہے آنکھ میں دریا
آدمی کا جو خواب ہوتا ہے
کوئی کھلتا ہے سرخ گلشن میں
کوئی کالا گلاب ہوتا ہے
تیرے آنے سے اب تو ہر جانب
موسموں پر شباب ہوتا ہے
اس میں بہتے ہیں درد کے موتی
آنکھ میں جو چناب ہوتا ہے
جس میں تصویر ہو تری وشمہ
خوبصورت وہ باب ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






