خوف ہجرت کا مجھ پہ طاری کی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادشت وحشت سے دل تو عاری کی
خوف ہجرت کا مجھ پہ طاری کی
اس نے جیتی ہے جنگ باتوں سے
جس کے لہجے میں انکساری کی
ایک دن تو میں ڈھونڈلوں گی اسے
میرا خوابوں میں گشت جاری کی
کیا ملیں گے وفاؤں کے نمبر
دل کا مضمون اختیاری کی
تیری یادوں سے سبز رہتی ہے
دل کے آنگن میں جو کیاری کی
اور کسی سے میں کیا کروں شکوہ
زخم میرا ہی مجھ پہ بھاری کی
اس کی جھوٹی انا ہے کیا وشمہ
میرا ہر عزم اس پہ جا ری کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






