ذرا سا روٹھ جانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillذرا سا روٹھ جانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
حقیقت کو چھپانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
جہاں پر حسن کی آوارگی نے رکھے تھے پاؤں
وہاں پلکیں بچھانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
جسی دیکھے بنا دھڑکن پہ اک انکار رہتا ہے
اسے یونہی ستانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ابھی تک ناشناسائی ہے جن بیتاب آنکھوں میں
انہیں اپنا بنانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
کبھی ان خواہشوں پر بھی کوئی بند باندھ پایا ہے؟
اسے اس سے چرانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
پڑے ہیں استراحت میں جو لمحے دل کے پہلو میں
انہیں اب گدگدانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ہواؤں سے چکور اک کہہ رہی تھی شوخ لہجے میں
ذرا چندا کو پانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ذرا ٹھہرو، کہ زلفوں کی گھنیری شام کی خاطر
ستارے توڑ لانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
ابھی بھی ان کہی کی دھند میں لپٹے ہیں جو جذبے
انہیں ہونٹوں پہ لانے کی مجھے کوشش تو کرنے دو
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






