روک لیتا ہے میری سانس ,اسے بھولنے کا خیال
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATبات میں کب کوئی ہونٹوں سے بیان کرتا ہوں
وہ تو خود ہی میری آنکھوں سے سمجھ جاتا ہے
ہاں میں کہ تو گیا تھا کہ بھلا دوں گا اسے
مگر..سچ..!...وہ مجھے آج بھی یاد آتا ہے
روک لیتا ہے میری سانس ,اسے بھولنے کا خیال
اسکی یادوں کا... میری روح سے کیا ناتا ہے
میں نے رو رو کہ سبھی نقش مٹاۓ تھے مگر
یار...! وہ پھر سے میرے دل میں اتر آتا ہے
لاکھ بدلے ہیں خضر ہم نے... مسافر... پھر بھی
رستہ خود بخود اسی کی اور کیوں پہنچاتا ہے..
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






