زندگی
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiآنکھ میں بھر آیا پانی زندگی
چند لمحوں کی کہانی زندگی
کاش مل جائے مجھے پھر سے وہی
ہائے مری وہ جوانی زندگی
جب ماں بھی ہوتی تھی اس گھر میں مرے
کتنی تھی نا وہ سہانی زندگی
دنیا کا غم تھا نہ کوئی فکر تھی
کتنی اچھی تھی پرانی زندگی
ایک ٹھوکر نے بتایا مجھ کو
ہاں ہوئی ہے بے دھیانی زندگی
اور بالکل بھی نہیں سہ پاؤں گا
اب نہ کر اور مہربانی زندگی
موت کے آگے تو یہ بھی ہے بے بس
سچ تو یہ ہے کے ہے فانی زندگی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






