ساحر سی نگاہ
Poet: سجاد ساجدی By: Sajjad Baloch Sajidi, Quettaساحر سی نگاہوں پہ کبھی زیست لٹادی
ان شوخ اداؤں پہ کبھی زیست لٹادی
جس طرف مہکتی تھی وہ قدموں کی روانی
ہم نے انہی راہوں پہ کبھی زیست لٹادی
زلفوں بکھرنے سے مہکتی ہیں فضائیں
کچھ ایسی ہواؤں پہ کبھی زیست لٹادی
افسردہ سی یادوں پہ کبھی زندگی گزری
بے درد سی آہوں پہ کبھی زیست لٹادی
دو گھونٹ پلاکر جو بھلادیتے ہیں سب رنج
کچھ ایسی پناہوں پہ کبھی زیست لٹادی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






