سخن لکھتا ہوں، لفظوں سے مرید کرتا ہوں
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanسخن لکھتا ہوں، لفظوں سے مرید کرتا ہوں
نیا شاعر ہوں، شاعری بھی جدید کرتا ہوں
جس کام سے نہ ملے مجھکو، پذیرائی ذرا بھی
اس کام کو میں ضد میں، مزید کرتا ہوں
مغموم سے چہرے مجھے، بھاتے نہیں ہیں
آئینے سے ذرا کم ہی، گفت و شنید کرتا ہوں
لوٹانے کا ہوں قائل، قرض ہو کہ احساں ہو
محبت ہو کہ نفرت ہو، بہت شدید کرتا ہوں
عشقِ حقیقی میں جیسے، اک رب کو مانتا ہوں
مجاذی عشق میں یہی، عملِ توحید کرتا ہوں
لکھتا ہوں شبِ تنہائی میں،شاعری جسکے لیۓ
شاید وہ سمجھ جائے، یہی اُمید کرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






