شام
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanشام اپنے سینے میں کیسے راز سمائے رکھتی ہے
نہ کسی کو بتائے نہ دکھائے عجب صورت حال رکھتی ہے
کتنے غم کتنی خوشیاں اس کے سامنے سے گزریں
سناٹا طاری کیے اپنے جزبات چھپائے رکھتی ہے
تاریکی کا زیور زیب تن کیے روشنی سے بیزار رہے
روشنی راز افشاں کرے تاریکی راز دار رہے
شام طاری کرے نیند غافل پر صاحب نظر کو منزل بخشے
بندے کو خدا سے روابط بخشے عجب کردار رکھتی ہے
پیار کی رومانیت اوڑھے دکھائی دے پُر مسرت سی
جزبات کی تلخیاں اپنے سینے پر سجائے غمگین مجبور سی
نہ کسی کو دکھائے نہ ہمدردی اُٹھائے مضبوط خودار سی
اپنی آنکھوں میں آنسو لیئے تاریکی اوڑھے رکھتی ہے
شام تیری رمزیں جاننے سے قاصر ہے میری سوچ
تیرا کردار عیاں ہی نہیں اس لیئے کشمکش میں ہے میری سوچ
چاند ستارے آنگن میں لیئے ہے اگرچہ تاریکی ہے زیب تن
حیدر! نہیں سمجھ پاوَ گے شام کی حقیقت ایسے خدوخال رکھتی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی







