شب ہے،تنھائی ہے ، میں ہوں،محبوب ہے
Poet: Hasan Shamsi By: F.H.SIDDIQUI, Karachi شب ہے،تنھائی ہے ، میں ہوں،محبوب ہے
یہ نوازش تری اے خدا خوب یے
جب سے افشاء ہوا اپنی الفت کا راز
ہر ادا ان کی مجھ سے ہی منسوب ہے
جی تو کرتا ہے بانہوں میں بھر لوں انھیں
بات لیکن یہ سنتے ہیں معیوب ہے
وہ ہی مانوس سی خوشبو آنے لگی
لا ادھر نامہ بر، ان کا مکتوب ہے
بس تری دھن ہے اور عالم بیخودی
لوگ سمجھے ہیں یہ کوئی مجذوب ہے
حسن کے سامنے کیسے شکوے گلے
بات وہ کیجے جو ان کو مر غوب ہے
اے ‘حسن‘ اس لئے ان سے بنتی نہیں
جی حضوری ھی بس ان کو مطلوب ہے ‘
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






