شرارت تھوڑی سی
Poet: Hasan Shamsi By: F.H.SIDDIQUI, Karachiچہرہ پہ چمک، باتوں میں کھنک ، آنکھوں میں شرارت تھوڑی سی
کیا جرم تھا جو دل بھول گیا اپنی بھی شرافت تھوڑی سی
آکاش تلک دیکھ آئے ہیں ، کوئی بھی نہیں ہمسر تیرا
ہاں ، چاند میں بس مل جاتی ہے ، کچھ تیری شباہت تھوڑی سی
وہ ھم سے کشیدہ رہتے ہیں ، ہم ان سے کشیدہ رہتے ہیں
دونوں میں انائیں تھوڑی سی ، دونوں کو شکایت تھوڑی سی
آلام زمانہ سے تو ہم ، مرجھائے سے رہتے ہیں ۔ لیکن
دیدار سے ان کے آئے ہے ، چہرہ پہ بشاشت تھوڑی سی
ہم خؤب سمجھتے ہیں یارو ، مفہوم تمھاری باتوں کا
اﷲ نے بخشی ہے شاید، ہم کو بھی ذہانت تھوڑی سی
چھوڑ آئے حرم کی خاطر ، سب جام و سبو کی شامیں ہم
باقی ہے مگر دل میں اب بھی ، میخانے سے رغبت تھوڑی سی
دلبر کی اداؤں سے ہی فقط ، بھانپے ہیں ‘حسن“ دلبر کا مزاج
ہے فن میں محبت کے حاصل ، ہم کو بھی مہارت تھوڑی سی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






