شکاری اب نیا اسلوب صید ایجاد کرتے ہیں

Poet: نوشین فاطمہ
By: nosheen fatima abdulhaqq, Multan

وفا کی جاں بلب رسموں پہ استبداد کرتے ہیں
پرانی نبھ نہیں پاتیں نئی ایجاد کرتے ہیں

عمارت پھر اٹھائی جائےگی پختہ تعلق کی
چلو پہلے ہم اچھے خلق کو بنیاد کرتے ہیں

یہ میرے فن کی عظمت ہے کہ میں خاموش رہتی ہوں
جدل باہم مرے مداح اور نقاد کرتے ہیں

نظر رکھتے ہیں چڑیا پر پکڑتے فاختہ کو ہیں
شکاری اب نیا اسلوب صید ایجاد کرتے ہیں

سخن میں کرتے ہیں ساقی کا بھی اور شیخ کا بھی ذکر
ہم اچھے لوگ ہیں نوشی ! ہر اک کو شاد کرتے ہیں

Rate it:
15 Nov, 2017

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: nosheen fatima abdulhaqq
میرے شاعری پر مشتمل صفحے میں ایک نظم بعنوان "کبھی جو ہم فراغت میں " موجود ہے ۔ اس سے پہلے کی تمام کاوشیں بےکار سمجھی جائیں ۔ کیونکہ وہ عروض سے آشنائی .. View More
Visit 48 Other Poetries by nosheen fatima abdulhaqq »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City