صبح سویرے دیکھا ہم نے اک چہرہ شاداب
Poet: محمد فیصل By: Muhammad Faisal, Karachiصبح سویرے دیکھا ہم نے اک چہرہ شاداب
روشن روشن آنکھیں جس کی وہ چندے ماہتاب
بستی بستی قریہ قریہ مچی ہے جس کی دھوم
ایسا حسن تو عنقا یارو وہ ٹھہرا نایاب
بحرِ وفا میں غرقابی کا تم کو کیسا خوف
قدم اُٹھاوَ بڑھتے جاوَ رستہ ہے پایاب
طور طریقے دنیا والے سب تم کو مبروک
راہِ جنوں کے سیکھ لو ہم سے تم رسم و آداب
تونے غزل میں بدلا ہے جو اپنا یہ بہروپ
فیصل اس پہ خندہ زن ہیں تیرے سب احباب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






