ظاہری حسن کے دلدادہ عاشقوں کے نام
Poet: عبیداللہ لطیف By: عبیداللہ لطیف, Faisalabadمٹ جاٸے گی اک دن یہ جوانی ماند پڑ جاۓ گا تیرا یہ حسن
اس لیے کبھی ظاہری حسن پہ ناز نہ کرنا میرے دوست
کبھی عاشق نہ ہونا کسی کے ظاہری حسن پر
یہ جسم بے وفا ہے اک دن کھا جاٸیں گے کیڑے مکوڑے اس کا گوشت
ہمیشہ عشق و محبت کے لیے تلاش کر اخلاق عالیہ کا حسن
عبید یہ حسن قاٸم و داٸم رہے گا خواہ ہو جاۓ انسان بڈھا کھوسٹ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






