عجیب رت ہے درختوں کی بے زبان میں تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاعجیب رت ہے درختوں کی بے زبان میں تھا
دیار شام میں آہوں کے مہربان میں تھا
کہ جیسے ساتھ ترے زندگی گزرتی ہو
ترا خیال مرے ساتھ نیم جان میں تھا
ابھی نہ توڑا گیا مجھ سے قید ہستی کو
ہم اس جنون سے آگے وہ امتحان میں تھا
وہ شوق تیز روی ہے کہ دیکھتا ہے جہاں
زمیں پہ آگ لگی جو ہے آسمان میں تھا
حقیقتوں کے مقابل ٹھہر نہیں سکتی
پرانی فکر بھی جھوٹےہی وہ گمان میں تھا
یقین ان کو دلاؤں چمکتے سورج کا
حصار شب میں جو سہمے ہوئے مکان میں تھا
لبوں پہ جس کے مسلسل پکار وشمہ تھی
اسی کی آنکھ سے دریا بھی اک بیان میں تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






