عشق پر ہجر کا کیسا گماں نہیں کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاعشق پر ہجر کا کیسا گماں نہیں کوئی
یہ جو تیری آنکھوں میں رازداں نہیں کوئی
میرے دل کی خاطر تو یہ فسانۂ ہستی
زخم بے رفو سا ہے درد جاں نہیں کوئی
جب سے مجھ کو حاصل ہے تیرے قرب کی دولت
دل بھی بحر الفت میں اب گماں نہیں کوئی
شور حشر برپا ہے یا کہ شور تنہائی
ہیں بجھی بجھی آنکھیں داستاں نہیں کوئی
مجھ کو مل ہی جائے گی اک نہ ایک دن منزل
بس اسی توقع پر دل آستاں نہیں کوئی
کون ہے جو رکھتا ہے دوست اس قدر مجھ کو
اجنبی سی دنیا میں آشیاں نہیں کوئی
اے وشمہ نہ چھوڑے گا وہ مجھے دعا دینا
"دھوپ ہے قیامت کی، سائباں نہیں کوئی"
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






