مایوس نہیں ہیں زندگی سے ہم
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamہماری تمام عمر گزری ہے سہتے رنج والم
پھر بھی مایوس نہیں ہیں زندگی سےہم
اپنےدل کاسفینہ گرداب کہ حوالے کر کے
سمندر کنارےبیٹھےکیےجارہےہیں ماتم
گلشن میں پھول تھےکلیاں تھیں بہارتھی
میری دنیااجاڑ کرتنہا چھوڑ گئے میرے جانم
درد بھری زندگی میں کیسےخوشی آئے
نہ کوئی ہمدم ہے نہ ہی کوئی میرا صنم
کسی کی جدائی میں مجھے ایسا لگتا ہے
ایک میں ہی اداس ہوں خوش ہے سارا عالم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








