مجھ سےکٹتی ہے کہاں رات بھی ،تنہائی بھی

Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

مجھ سےکٹتی ہے کہاں رات بھی ،تنہائی بھی
کتنا مغرور ہے اب میرا وہ ہر جائی بھی

کتنا اچھا ہے جو لوگوں نے مجھے نام دیا
مفت ملتی ہے کہاں عزتِ رسوائی بھی

جس کو ماں بن کے ہے سینے سے لگایا ہر دم
اچھا سمجھے ہے کہاں مجھ کو مرا بھائی بھی

اس کے جاتے ہی چلی جاتی ہیں سانسیں میری
روٹھ جاتی ہے مری زیست کی شہنائی بھی

لاکھ الزام لگالے وہ مجھے فکر نہیں
میرے احباب جو کرتے ہیں پزیرائی بھی

تم مرے ساتھ محبت کی گواہی دینا
دونوں بانٹیں گے محبت کی یہ رسوائی بھی

اس جگہ سے ہی نکل آئیں محبت کے کنول
جس چمن میں ہو محبت کی پزیرائی بھی

کتنا بہتر تھا جو خود میں ہی فنا ہم رہتے
ہم کو لے ڈوبی ہے تجھ سے تو شناسائی بھی

تیری دنیا کے رواجوں سے مجھے کیا لینا
موت آئے گی مجھے وشمہ اگر آئی بھی

Rate it:
22 Feb, 2018

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: وشمہ خان وشمہ
I am honest loyal.. View More
Visit 4714 Other Poetries by وشمہ خان وشمہ »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City