محبت تو محبت تھی محبت میں نہیں تھا میں
Poet: Aamir Veesar By: Aamir Ali Veesar, Khairpurمحبت تو محبت تھی محبت میں نہیں تھا میں
محبت تو اسے بھی تھی، شاید اس میں نہیں تھا میں
محبت تو محبت تھی، پر اب بھی محبت ہے
پھر مجھ سے نہیں تھی وہ، جو اب بھی محبت ہے
محبت میں رہا نا میں، وہ اب بھی محبت ہے
محبت نے مجھے مارا ، ہاں وہ قاتل محبت ہے
محبت کی گلہ ہے یہ، کہ وہ کیوں محبت ہے؟
وہ جو ہو گئی ہے نا، وہ ہی تو محبت ہے
محبت تو نہیں مجھ کو، پھر کیوں اس کو محبت ہے؟
وہ جو میرا بھی نہیں ہے، اس سے کیوں محبت ہے ؟
محبت سے نہیں واقف، تو پھر یہ کیا محبت ہے؟
میں جو کرتا ہوں تم سے، واقعی یہ محبت ہے؟
محبت سے ہیں دل قائم، دلوں میں بھی محبت ہے
محبت جنون ہے میرا، یہ عشق میرا محبت ہے
محبت کا ہے کیا نام، اس کا نام محبت ہے
کیا جنون عشق کا دوسرا نام محبت ہے
محبت کبھی نا کرنا تم، کیوں کہ زہر یہ محبت ہے
جو پی کہ بھی نا مروگے تم، وہ ہی تو محبت ہے
محبت سے یہ "ویسر" ہے، ہاں یہ "عامر" محبت ہے
مجھے سچی محبت ہے، یہ تم سے ہی محبت ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






