محبت کے خیالوں کی خوشی معلوم ہوتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامحبت کے خیالوں کی خوشی معلوم ہوتی ہے
جنوں کے رنگ میں بھی دل لگی معلوم ہوتی ہے
ترا در چھوڑ دیتی ہوں، مگر اتنی دعا کرنا
مرا احساس ہے یہ سادگی معلوم ہوتی ہے
میں چاہوں بھی کبھی تو اس جہاں کی ہو نہیں سکتی
فقط اتنا کہو گی بے بسی معلوم ہوتی ہے
مجھے رغبت ذرا سی بھی نہیں ہے، مے سے، ساقی سے
پیوں اک جام غم یا بے خودی معلوم ہوتی ہے
وہ سایہ اٹھ گیا ہے اپنے سر سے دھوپ نگری میں
کہ ساری زندگی ہی بے کسی معلوم ہوتی ہے
کچھ ایسی رنج و غم کی داستاں معلوم ہوتی ہے
حیاتِ مختصر بھی بندگی معلوم ہوتی ہے
یقیناً ترک کردوں گی میں یوں آشفتہ سر پھرنا
مگر یہ تب ہی وشمہ عاشقی معلوم ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






