میرے ہمسفر
Poet: Maria Rehmani By: Maria Rehmani, Kharianمیرے ہمسفر میرے ہم خبر
نئے سال کی طرحمیرے دل میں بھی
بے قرار موسم اترا ہے
ہجر کے خوف سے
تیری یاد کے پنچھی سہمے ہیں
تیرا ہی بس خیال ہے
میرے ویراں اجالوں میں
لپٹ جاتی ہیں احساس بن کر
تیری یادیں اداس راتوں میں
چل پڑا ہے دل میرا
تجھے ڈھونڈنے کے سفر میں
میرے ہم خبر میرے ہمسفر
میں تجھ کو ڈھونڈ لوں ،،،
تو کس نگر؟
اس راہ میں ،،
جس پہ کبھی ہم چلے نہیں
ٹھہر جائوں اس موڑ پر،،،
جہاں کبھی تم رکے نہیں
تجھ کو ڈھونڈ لوں تو کس طرح
میں کس شہر
یا پھر اس درد میں
ابھی جو مجھ کو ملا نہیں
٤میں سفر کروں تو کس قدر
میرے ہمسفر میرے ہم خبر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






