نسبت محبوب
Poet: شاہ میر مغل By: Shahmeer Mughal, lahoreتیری نسبت کا ہم احترام کرتے ہیں
اسی لئیے تو چرچہ تیرا صبح شام کرتے ہیں
یہ مانگ لی ہے تو نے ہم سے صرف ایک شام
ارے ہم تو زندگی ہی تیرے نام کرتے ہیں
نادان ہیں وہ لوگ جو سمجھتے نہیں یہ بات
ہم کہاں عشق کے سوا کوئی کام کرتے ہیں
ملا جو یار میرا کبھی اے دوست! تجھے
یہی پیغام اسے کہنا کہ ہم سلام کرتے ہیں
مآلِ عشق کیا ہوگا ہمیں معلوم کیا لیکن
بنا سوچے ہوۓ یہ دل تمہارے نام کرتے ہیں
اُڑا کے چین دل کا اور چبھو کے جگر میں ناوَک
حریمِ ناز میں جا کر وہ اب آرام کرتے ہیں
اسکی صورت سی صورت نہیں کوئی شاہ میرؔ
کہ بات اپنی ہم اسی پہ تمام کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






