وہ رابطے بھی انوکھے جو آکے بیٹھے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاوہ رابطے بھی انوکھے جو آکے بیٹھے ہیں
وہ قربتیں بھی نرالی سجا کے بیٹھے ہیں
سوال بن کے سلگتے ہیں رات بھر تارے
کہاں ہے نیند ہماری وہ آکے بیٹھے ہیں
بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سے
سنیں جو اس کی نہیں جو سنا کے بیٹھے ہیں
چراغ بزم ستم ہیں ہمارا حال نہ پوچھ
جلے تھے شام سے پہلے بجھا کے بیٹھے ہیں
یہ رات کچھ بھی نہیں تھی یہ رات سب کچھ ہے
طلوع جام سے پہلے اٹھا کے بیٹھے ہیں
پھسلتی جاتی ہے ہاتھوں سے ریت لمحوں کی
تمہارے نام سے پہلے جلا کے بیٹھے ہیں
حقیقتوں کا بدلنا تو خواب ہے وشمہ
مگر یہ خواب ہے ایسا اڑا کے بیٹھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






