چمکتا ھوا رؤپ بکھرا ھے زمین پہ
Poet: SHABEEB HASHMI By: R.K Jazeb, Jeddahوہ نازک سی کونپل
وہ نرگس کے پھول
اڑتی ھوئی سرد
موسم کی دھول
وہ مہکتے گلاب
وہ خشبؤ صبا کی
نہاتی ھوئی روشنی
ھے فضاء کی
وہ چشمے کا جھلمل
بل کھاتا پانی
مسکراتے نظارے
سنائیں کہانی
وہ راتوں کا رکنا
تیری ھر ادا پہ
اور سازوں کی سرگم
گونجے ھر جگہ پہ
وہ گجروں کی مہکار
اور پائل کی شوخی
وہ نظروں کا طلاطم
اور پلکؤں پہ موتی
وہ چمکتی ھوئی دھوپ
میں درختوں کے سائے
اور وہ نکھرا سا آنچل
بادلوں پے چھائے
وہ موتی ھے یا ھیرا
سنہری جبیں پہ
اور چمکتا ھوا رؤپ
بکھرا ھے زمیں پہ
شبیب ھاشمی کی یہ نظم مجھے بہت پسند ھے ۔ انکی یہ خوبصورت نظم انکے نام ۔۔۔۔۔ شکریہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






