کون جھانکے ہے بھلا اپنے گریبانوں میں

Poet: Sheraz Jafri
By: Sheraz Jafri, Rohri

کون جھانکے ہے بھلا اپنے گریبانوں میں
وسعتِ قلب ہی باقی نہیں انسانوں میں

اب یہ حالت ہے کہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا ہے
نام تیرا تھا کبھی دل کے سبھی خانوں میں

اب ذرا ایک نظر ہم پہ بھی ڈالو جاناں
ہم بھی شامل ہیں ترے در کے نگہبانوں میں

میں بھی ماں جیسی ریاست کے قدم چومونگا
کاش مل جائے کہیں مجھ کو یہ افسانوں میں

علم و تحقیق کے آگے ہی کریں خم سر کو
اک یہی ہم کو بچا سکتا ہے طوفانوں میں

ذہنِ انسان نے حکمت کے دریچے کھولے
فلسفہ سائنس و تحقیق کے میدانوں میں

خوں پسینے کے عوض کم ہی ملی ہے اجرت
ٰزیست مزدور کی گزری ہے پریشانوں میں

دستِ مزدور کے ہاتھوں پہ سجے یہ چھالے
خوف طاری ہے جسے دیکھ کے ایوانوں میں

میں نے مزدور کے گھر میں ہی خدا کو پایا
تم جسے ڈھونڈتے پھرتے رہے ایقانوں میں

دورِ حاضر کے شہنشاہ سے ہم تو شیراز
بر سرِ جنگ ہیں افلاس کے میدانوں میں

Rate it:
29 May, 2020

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Sheraz Jafri
Visit Other Poetries by Sheraz Jafri »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City