کیا آج بھی تمہیں یاد ہے۔۔۔؟
Poet: UA By: UA, Lahoreابھی کل کی بات ہے
کیا آج بھی تمہیں یاد ہے
ہمارا وہ
بِیتا ہوا کل
جب ہم تمیں
اپنے پَل پًل کا
حساب دِیا کرتے تھے
اور تمہارے
ہر ایک لمحے کا
حساب رکھا کرتے تھے
حساب لگا سکتے ہو
کیا تم بتا سکتے ہو
کہاں کھو گئے
وہ سارے لمحے
کہاں کھو گئے
وہ سارے پَل
کیا آج بھی تمہیں یاد ہے
ہمارا وہ
بِیتا ہوا کل
ابھی کل کی بات ہے
جب ہم تمیں
اپنے پَل پًل کا
حساب دِیا کرتے تھے
اور تمہارے
ہر ایک لمحے کا
حساب رکھا کرتے تھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






