تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہے

Poet: قیصر صدیقیBy: عابد, Quetta

تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہے
میرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہے

تیری زلفوں کے مچلتے ہوئے ساون کا سماں
میرے مہکے ہوئے جذبات کا آئینہ ہے

میرے چہرے کو ذرا غور سے دیکھو تو سہی
میرا چہرہ مرے حالات کا آئینہ ہے

لہلہاتی ہوئی بھرپور جوانی تیری
گنگناتی ہوئی برسات کا آئینہ ہے

اے مری جان غزل اے مری شہناز غزل
تیرا نغمہ مرے جذبات کا آئینہ ہے

Rate it:
Views: 1385
21 Jan, 2022