اقرار نہیں کر سکتا
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATیار میں اس لیے اقرار نہیں کر سکتا
میں اسے, اس جیسا پیار نہیں کر سکتا
سہے گا کیسے غم ترک وفا اس عمرمیں وہ
بس یہی سوچ کہ میں انکار نہیں کر سکتا
پوچھ لیتا وہ مجھے کاش وفا سے پہلے
اور میں کہتا کہ خبردار نہیں کر سکتا
دل جس کا مجسمہ ہے.. پارسائی کا
میں ایسے شخص کو گنہگار نہیں کر سکتا
میں تو خود عشق حقیقی کا طالب ہوں
میں اسے اپنا طلبگار نہیں کر سکتا
بہت مشکل ہے مسافر یہ محبت کی سبیل
میں اسے ایسے یہاں خوار نہیں کر سکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






