تیرے غم میں اب میرا یہ حال ہو کر رہ گیا
Poet: کرم ترابی By: Karam Turabi, Karachiتیرے غم میں اب میرا یہ حال ہو کر رہ گیا
زندگی سب بہہ گئی اور خالی قالب رہ گیا
زندگی تو وار ڈالی تھی بہت پہلے صنم
جو بچا تھا خون وہ اشق بن کر بہہ گیا
تو اگر میرا نہیں تو پھر کسی کا نہیں
جاتے جاتے اتنی سی وہ بات مجھ سے کہہ گیا
اپنے من کا بادشاہ جب آل والا ہو گیا
ذرّیت کے واسطے وہ کتنی مشکل سہہ گیا
تم نے پوچھا ہے کرم جو امتحانِ عشق کا
ہو گیا ہوں کامیاب بس! ایک پرچہ رہ گیا
زندگی تو وار ڈالی تھی بہت پہلے صنم
جو بچا تھا خون وہ اشق بن کر بہہ گیا
تو اگر میرا نہیں تو پھر کسی کا نہیں
جاتے جاتے اتنی سی وہ بات مجھ سے کہہ گیا
اپنے من کا بادشاہ جب آل والا ہو گیا
ذرّیت کے واسطے وہ کتنی مشکل سہہ گیا
تم نے پوچھا ہے کرم جو امتحانِ عشق کا
ہو گیا ہوں کامیاب بس! ایک پرچہ رہ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






