جنون عشق
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiتمہارے ہجر میں گذرے یہاں وہاں سے ہم
جنون عشق میں گذرے کہاں کہاں سے ہم
تمہارا ذکر ہی ہم نے تو جا بجا دیکھا
تمہارے شہر میں گذرے جہاں جہاں سے ہم
تری تلاش میں ہم بھی بھٹک گئے ہیں اب
پھر آگئے ہیں وہیں گذرے تھے جہاں سے ہم
بہت قریب سے دیکھا ہے موت کو ہم نے
تمہارے عشق میں گذرے جو امتحاں سے ہم
ابھی تو آئے ہو کچھ دیر تو ذرا بیٹھو
نکل تو جائیں ذرا دل کے اس گماں سے ہم
تجھے پسند نہیں اب جو ساتھ میرا تو
چلو نکلتے ہیں اب تیری داستاں سے ہم
تمہارے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے
ڈرے ہوئے ہیں محبت کی داستاں سے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






