آئے جو وارثانِ جودوسخا شہر میں
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaآئے جو وارثانِ جودوسخا شہر میں
تکلیف کے بنا کیا ان کو ملا شہر میں
جو فرد سہہ گیا ہے خود پر سزا شہر میں
اک پل کو وہ نہ ٹھہرا میرے پیاء شہر میں
رباط سمجھ آئے کچھ راہ نما شہرمیں
سربست لٹ گئے ہیں اس بے وفا شہر میں
تاروں میں روشنی ہے جن کی وجہ سے اب تک
دیکھی ہے ماند ان کی مَیں نے ضیاء شہر میں
کتنے شگوفے گِر کے مٹی میں دب گئے ہیں
ایسی چلی ہے ظلم کی اک دن ہوا شہر میں
آجاو چھوڑ دامن فرقہ پرستیوں کا
مل کر منائیں آج غمِ کربلا شہر میں
خوشنودئ خدا میں آنسو یہ چار دے کر
جنت وصول ہو گی غم کا صلہ شہر میں
رعنائیاں کہاں ہیں اب جعفری شہر میں
غمگین مَیں نے دیکھی بادِ صباء شہر میں
سلام شہیدانِ کرب و بلا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






