آیا دسمبر پھر مجھے تم یاد آتے ہو (گیت ، حصہ دوم)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر پل تصور میں مری جاں مسکراتے ہو
آیا دسمبر پھر مجھے تم یاد آتے ہو
پچھلے دسمبر میں تو ہوتی تھیں ملاقاتیں
کرتے تھے پہروں بیٹھ کر ہم پیار کی باتیں
اب فاصلے اتنے ہیں ہم تم مل نہیں سکتے
اب دن گزرتے ہیں نہ کٹتی ہیں مری راتیں
کیا آج بھی میرے لیے تم گیت گاتے ہو
آیا دسمبر پھر مجھے تم یاد اتے ہو
دلکش نظاروں میں کریں ہم پیار آ جاؤ
ایسے حسیں موسم میں نینوں کو نہ ترساؤ
ٹھنڈی پون نے آگ سی تن میں لگائی ہے
اب دور رہ کےاور بھی مجھ کو نہ تڑپاؤ
برہا کی اگنی میں مرا تن من جلاتے ہو
آیا دسمبر پھر مجھے تم یاد اتے ہو
ہر پل تصور میں مری جاں مسکراتے ہو
آیا دسمبر پھر مجھے تم یاد آتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






