ابر جب ٹوٹ کے برسا تو بہت اچھا لگا
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaاَبر جب ٹوٹ کے برسا تو بہت اچھا لگا
کھلِ اُٹھا پھول سا چہرہ تو بہت اچھا لگا
چند لمحے کو سہی ، آج کئی سال کے بعد
ہم نے جب چاند کو دیکھا تو بہت اچھا لگا
اَ نکہی ، اَن سنی ، بھو لی ہوئی اک شام کا رنگ
چہرہء یار پہ نکھرا تو بہت اچھا لگا
بے رُخی خون رُولاتی رہی ، پھر بھی لیکن
وہ مجھے دیکھ کے ِٹھٹکا تو بہت اچھا لگا
کچھ دبے لفظ سہی پر مجھے کھو دینے کا دکھ
اُسکی ہر بات میں جھلکا تو بہت اچھا لگا
مہرباں ، راحتِ جاں ہونٹ مرِے زخموں پر
وقت نے پیار سے رکھا تو بہت اچھا لگا
جب سرِ بزم لگی ٹھیس تو شیشہ دل کا
بے صداَ ٹوٹ کے بکھرا تو بہت اچھا لگا
اب بھی اے دوست مرِے درد کے رخساروں پر
کوئی آ نسو ، کبھی ڈھلکا تو بہت اچھا لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






